TRENDING NOW

Recent News

News

ایس ڈی پی آئی کی پہلی فہرست جاری، سات امیدوار میدان میں

مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے آئندہ انتخابات (15 جنوری 2026) کے لیے Social Democratic Party of India (SDPI) نے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر دی ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق یہ انتخابات مہا وکاس اگھاڑی کے اتحاد کے تحت لڑے جائیں گے، جبکہ نشستوں کی تقسیم مکمل ہونے کے بعد مزید امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھی‌:.......بھارت پہلے ہی ہندو راشٹر ہے، آئینی منظوری کی ضرورت نہیں: موہن بھاگوتval-Needed.html

*اعلان کردہ امیدوار اور وارڈز*

ایس ڈی پی آئی کی جانب سے جاری پہلی فہرست میں سات امیدوار شامل ہیں:

وارڈ نمبر 3:

شیخ عرفان شیخ نورالدین

شیخ سکندر حسین شبیر حسین — پیشے سے اینمل ہسبنڈری ڈاکٹر

وارڈ نمبر 14:

سلیم عبد الخالق — طویل عرصے سے عوامی میدان میں سرگرم کارکن

وارڈ نمبر 17:

مولانا انیس احمد — تعزیہ کمیٹی کے رکن

عبدالرحمن بھیکن قاضی — موبائل بزنس اور فارماسسٹ

وارڈ نمبر 21:

حافظ سید عمران سید فاروق — حافظِ قرآن اور وائر مین

انصاری اویس احمد خورشید احمد — سماجی کارکن

*پارٹی کا مؤقف*

ایس ڈی پی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ پارٹی گزشتہ چار برسوں سے مالیگاؤں میں عوامی مسائل پر مسلسل کام کر رہی ہے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ اس کی سیاست ذات، برادری یا پیسے پر مبنی نہیں بلکہ پانی، بجلی، صفائی اور دیگر بنیادی شہری مسائل کے حل پر مرکوز ہے۔

*امیدواروں کے انتخاب کا معیار*

پارٹی کے مطابق امیدواروں کے انتخاب میں تعلیم، صلاحیت، سماجی وابستگی اور اپنے علاقوں کے مسائل سے واقفیت کو ترجیح دی گئی ہے، تاکہ منتخب نمائندے محض نمائشی سیاست کے بجائے عملی طور پر عوامی خدمت انجام دے سکیں۔

آئندہ کا لائحہ عمل: ایس ڈی پی آئی نے عندیہ دیا ہے کہ اتحاد میں نشستوں کی تقسیم جیسے ہی حتمی شکل اختیار کرے گی، ویسے ہی باقی امیدواروں کی فہرست بھی جلد جاری کی جائے گی۔

مادری زبان کے استعمال پر زور، مسلم مخالف ہونے کے الزامات کی تردید، شفافیت سے کام کرنے کا دعویٰ

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ بھارت پہلے ہی ایک ہندو راشٹر ہے اور اس حقیقت کے لیے کسی آئینی منظوری کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک ملک کے لوگ اپنی تہذیب، ثقافت اور اپنے آباؤ اجداد کی عظمت پر فخر کرتے رہیں گے، بھارت ہندو راشٹر ہی رہے گا۔

ییہ بھی پڑھیں:....ایک مہینے میں ہندی زبان سیکھو ورنہ.....

اتوار کے روز کولکاتا میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ جس طرح سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور اس کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی، اسی طرح بھارت کا ہندو راشٹر ہونا بھی ایک حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی بھارت کو اپنی مادرِ وطن مانتا ہے اور بھارتی ثقافت کا احترام کرتا ہے، وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے۔

آر ایس ایس سربراہ نے مزید کہا کہ اگر کبھی پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کر کے بھارت کو ہندو راشٹر قرار دے یا نہ دے، اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے مطابق آر ایس ایس ہندوتوا نظریے پر یقین رکھتی ہے اور اس کے لیے کسی لفظ یا آئینی تعریف کی محتاج نہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پیدائش کی بنیاد پر ذات پات کا نظام ہندوتوا کی پہچان نہیں ہے۔

زبان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ لوگوں کو غیر ملکی زبانوں کے بجائے اپنی مادری زبان استعمال کرنی چاہیے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بنگالی بولنے والوں کو اپنے گھروں کے دروازے پر “ویلکم” کے بجائے “سواگتم” لکھنا چاہیے۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ آر ایس ایس کے بارے میں کچھ لوگوں کے ذہنوں میں غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں، جو گمراہ کن مہمات کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ آر ایس ایس ایک مضبوط قوم پرست تنظیم ہے، لیکن اس کا مسلمانوں کے خلاف کوئی جذبہ نہیں ہے اور تنظیم ہمیشہ شفاف طریقے سے کام کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو لگتا ہے کہ آر ایس ایس مسلم مخالف ہے تو وہ آ کر تنظیم کے کام کو خود دیکھ سکتا ہے۔ اگر انہیں ایسا کچھ نظر آئے تو وہ اپنی رائے قائم رکھیں، اور اگر نہ دیکھیں تو اپنی رائے بدل لیں۔ موہن بھاگوت کے مطابق آر ایس ایس کے بارے میں بہت کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے، لیکن اگر کوئی سمجھنا ہی نہ چاہے تو اسے قائل کرنا ممکن نہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، لیکن ملک اور سنگھ کے خلاف پروپیگنڈا اس لیے بڑھ رہا ہے کیونکہ کچھ لوگ ہندومت کے عروج سے خوف زدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے بارے میں رائے قائم کرنا ہر شخص کا حق ہے، مگر یہ رائے حقائق پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ افواہوں اور ثانوی معلومات پر۔

بی جے پی کونسلر رینو چودھری کی غیر ملکی شہری کو دھمکی، ویڈیو وائرل، سوشل میڈیا پر شدید برہمی

پٹپڑ گنج (دہلی): دہلی کے پٹپڑ گنج علاقے سے بی جے پی کی کونسلر رینو چودھری کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ ایک جنوبی افریقی شہری کو ہندی نہ بولنے پر دھمکاتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔ ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں سخت ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:..سدھی وسترے نے ریاست کی سب سے کم عمر صدر بلدیہ بن کر تاریخ رقم کردی

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رینو چودھری ایک عوامی پارک میں موجود لوگوں سے تلخ لہجے میں بات کر رہی ہیں، جہاں جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والا ایک فٹبال کوچ بھی موجود ہے، جو کئی برسوں سے مقامی بچوں کو تربیت دے رہا ہے۔ کونسلر بلند آواز میں سوال کرتی ہیں کہ غیر ملکی شہری نے اب تک ہندی کیوں نہیں سیکھی۔

ویڈیو میں رینو چودھری کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر متعلقہ کوچ ایک ماہ کے اندر ہندی نہیں سیکھتا تو اس سے پارک چھین لیا جائے گا۔ اس دوران وہ موجود افراد کو یہ ہدایت بھی دیتی ہیں کہ اس شخص پر کڑی نظر رکھی جائے، اور یہ الزام بھی عائد کرتی ہیں کہ اگر اس کی جانب سے کوئی غلط حرکت ہوئی تو سب کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے رینو چودھری کے رویے کی سخت مذمت کی۔ کئی صارفین نے ان کے طرزِ عمل کو غنڈہ گردی، بدتمیزی اور اختیارات کے غلط استعمال سے تعبیر کیا۔ بعض صارفین نے الزام لگایا کہ کونسلر سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کا رویہ اختیار کر رہی ہیں۔

آن لائن صارفین نے رینو چودھری کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’غنڈہ‘، ’جاہل‘ اور ’ذہنی طور پر غیر متوازن‘ تک قرار دیا۔

اس واقعے کے بعد زبان تھوپنے کے مسئلے پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایک غیر ملکی شہری، جو برسوں سے بچوں کی خدمت کر رہا ہے، اس پر ہندی سیکھنے کا دباؤ کیوں ڈالا جا رہا ہے، جبکہ بیرونِ ملک کام کرنے والے بھارتیوں پر عموماً مقامی زبان سیکھنے کی ایسی پابندی نہیں لگائی جاتی۔

کچھ صارفین نے اس معاملے کا موازنہ جنوبی ہند اور مہاراشٹر میں زبان کے حساس مسئلے سے بھی کیا، جہاں لسانی تنازعات پہلے ہی ایک نازک موضوع رہے ہیں۔

کون ہیں رینو چودھری؟

رینو چودھری بھارتیہ جنتا پارٹی کی سینئر رہنما ہیں اور مشرقی دہلی کے وارڈ نمبر 197 (پٹپڑ گنج) سے میونسپل کونسلر ہیں۔ انہوں نے 2022 کے ایم سی ڈی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی امیدوار کو تقریباً 403 ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔

فی الحال وہ بی جے پی دہلی مہیلا مورچہ میں صوبائی وزیر کے عہدے پر فائز ہیں اور اس سے قبل ضلع صدر کی ذمہ داری بھی نبھا چکی ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر عوامی نمائندوں کے رویے، زبان کے استعمال اور اختیارات کی حدود پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات: 22 سالہ سدھی وسترے ریاست کی سب سے کم عمر صدر بلدیہ بن گئیں، شندے سینا نے بی جے پی کو چونکا دیا

سولاپور ضلع کی سیاست میں ایک بڑی اور غیر متوقع تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ موہول میونسپل کونسل کے انتخابات میں شیوسینا (شندے گروپ) نے بی جے پی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ اس انتخاب میں شیو سینا کی امیدوار سدھی وسترے نے بی جے پی کی امیدوار شیتل کھیرساگر کو شکست دے کر میونسپل صدر کا عہدہ اپنے نام کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:..مہاراشٹر سیاست میں طوفان! کانگریس ناراض، سنجے راوت نے کر دیا بڑا اشارہ

یہ کامیابی اس لیے بھی خاص مانی جا رہی ہے کیونکہ سدھی وسترے کی عمر صرف 22 سال ہے اور وہ مہاراشٹر کی تاریخ کی سب سے کم عمر میونسپل صدر بن گئی ہیں۔ موہول کو طویل عرصے سے بی جے پی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں سابق ایم ایل اے راجن پاٹل کا خاص اثر و رسوخ رہا ہے۔ ایسے میں شیو سینا کی یہ جیت بی جے پی کے لیے بڑا سیاسی دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔

سرکاری نتائج کے مطابق سدھی وسترے نے یہ مقابلہ 170 ووٹوں کے فرق سے جیتا، جس کے بعد سولاپور ضلع میں بی جے پی حلقوں میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اس نتیجے سے شیو سینا کارکنوں اور قیادت کا حوصلہ کافی بلند ہوا ہے۔ 20 رکنی موہول میونسپل کونسل میں شیو سینا نے 9 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

سدھی وسترے کا تعلق موہول کے ایک متوسط طبقے کے سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے دادا، انجہانی وشوناتھ شِوراج وسترے، اپنے وقت کے معزز سماجی و سیاسی شخصیت تھے اور تقریباً 30 سال قبل موہول گرام پنچایت کے سرپنچ رہ چکے تھے۔ ان کا جھکاؤ کانگریس نظریے کی طرف تھا اور وہ کئی بار گرام پنچایت کے رکن منتخب ہوئے۔ سدھی کے والد راجو وسترے پہلے ایک نجی کوآپریٹو ادارے میں کام کر چکے ہیں اور اب کھیتی باڑی کرتے ہیں، جبکہ والدہ تیجشری گھریلو خاتون ہیں۔

تعلیم کے میدان میں بھی سدھی وسترے سرگرم رہی ہیں۔ انہوں نے بی کام کی تعلیم مکمل کی ہے اور اس وقت گراڈ کالج سے ایم کام کی پڑھائی کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم میں بھی کام کر چکی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سدھی کا شروع میں سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن میونسپل صدر کے عہدے پر ریزرویشن کے اعلان کے بعد خاندان اور مقامی شیوسینا لیڈروں کے مشورے سے ان کا نام سامنے آیا۔ سابق میونسپل صدر رمیش براسکر اور سینئر لیڈر پدم دیشمکھ کی رہنمائی میں ایک مضبوط انتخابی مہم چلائی گئی، جس کا عوام پر گہرا اثر پڑا۔

فتح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سدھی وسترے جذباتی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جیت عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کی کم عمری پر سوال اٹھائے گئے، لیکن عوام نے ووٹ دے کر اس کا جواب دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح موہول شہر کی بنیادی سہولتوں جیسے سڑکیں، پانی، بجلی، صحت اور مجموعی ترقی پر ہوگی اور وہ سب کو ساتھ لے کر کام کریں گی۔

کانگریس کے اعتراض کے باوجود سنجے راوت کا بڑا دعویٰ, دو سے تین دن میں اعلان ممکن

ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے سینئر لیڈر سنجے راوت نے دعویٰ کیا ہے کہ راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نونرمان سینا (MNS) اور مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کے درمیان اتحاد پر بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اگلے دو سے تین دن میں اس کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔

اتوار کے روز بلدیاتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہا کہ MNS کے ساتھ اتحاد سے متعلق حالیہ میٹنگ حتمی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اتحاد خاص طور پر ممبئی میونسپل کارپوریشن (BMC) سمیت آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔

سنجے راوت نے تاہم یہ بھی واضح کیا کہ مہا وکاس اگھاڑی کی اہم اتحادی جماعت کانگریس کو MNS کے ساتھ اتحاد پر اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو اس بات پر قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں کہ بی جے پی کو شکست دینے کے لیے تمام سیکولر اور اپوزیشن طاقتوں کا ایک ساتھ آنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری رائے میں اتوار کو ہوئی بات چیت آخری میٹنگ تھی۔ دو سے تین دن میں آفیشل اعلان ہو جائے گا۔”

سنجے راوت کے مطابق کانگریس نے راج ٹھاکرے کی MNS کو اتحاد میں شامل کرنے پر کھل کر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کانگریس کو اعتراض ہے لیکن انہیں منانے کی کوششیں مسلسل کی جا رہی ہیں۔ راوت نے یہ بھی واضح کیا کہ ممبئی میں اتحاد نہ ہونے کے باوجود کانگریس اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے تعلقات میں کوئی تلخی نہیں ہے۔

ادھر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور مہاراشٹر کے انچارج رمیش چنّیتھلا نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ پارٹی کارکنان کی خواہش ہے کہ بی ایم سی انتخابات کانگریس اکیلے لڑے۔ ان کے مطابق کانگریس ممبئی کے عوامی مسائل جیسے آلودگی، صحت خدمات اور بدعنوانی کو انتخابی ایجنڈا بنائے گی اور شہر کے سیکولر ڈھانچے کے تحفظ کے لیے تنہا میدان میں اترنے کیلئے تیار ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ آج اتوار کو سامنے آئے مختلف نگر پالیکاؤں کے انتخابی نتائج میں مہا وکاس اگھاڑی کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ مہایوتی نے واضح کامیابی حاصل کی ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ان نتائج پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی آج بھی مہاراشٹر کی نمبر ون پارٹی ہے۔

فڈنویس نے بی ایم سی سمیت آئندہ بلدیاتی انتخابات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج بلدیاتی انتخابات کے "ٹریلر" ہیں اور اصل تصویر آگے سامنے آئے گی۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر راج ٹھاکرے واقعی مہا وکاس اگھاڑی میں شامل ہوتے ہیں تو ممبئی اور مہاراشٹر کی شہری سیاست میں بڑا الٹ پھیر ممکن ہے، تاہم کانگریس کے موقف کی وجہ سے یہ اتحاد کس شکل میں سامنے آئے گا، اس پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

Random Posts