TRENDING NOW

Recent News

News

سیاست کے لیے ہم ذات اور برادری کے جھنڈے لے کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے بچوں کے اسکولوں کے لیے بھی متحد ہوکر باہر نکلنا چاہیے

کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے کنوینر ابھجیت دِپکے نے جمعرات کو مہاراشٹر کے وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھسے کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست کے سرکاری اسکولوں کی مبینہ خستہ حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو مناسب کلاس روم، بینچ، بیت الخلاء اور اسکول تک پہنچنے کے لیے محفوظ راستوں جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔

ابھجیت دپکے نے یہ مطالبہ لاتور کے ضلع کے اوسا تعلقہ کے اوجانی گاؤں میں واقع ضلع پریشد اسکول کے دورے کے دوران کیا۔ وہ اپنی تنظیم کی جانب سے گزشتہ ہفتے شروع کی گئی ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کے تحت اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی حالت کے لیے وزراء اور منتخب نمائندوں کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے اور عوام کو سیاسی قائدین پر تعلیم کو ترجیح دینے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دپکے نے کہا کہ ریاست کے کئی اسکولوں میں اب بھی مناسب کلاس روم، بیٹھنے کے لیے بینچ، بیت الخلاء اور محفوظ راستوں جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض اسکولوں میں طلبہ کے ساتھ ’’جانوروں سے بھی بدتر‘‘ سلوک کرنے جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ کی زندگی کا سوال ہے۔ جب سیاسی رہنما طلبہ کے لیے کچھ نہیں کررہے ہیں تو عوام انہیں ووٹ کیوں دیں؟ کیا عوام انہیں صرف اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ وہ ہیلی کاپٹروں میں سفر کریں؟ عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے بچے کن حالات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ان وزراء کے کتوں کو بھی اس سے بہتر سہولیات حاصل ہیں۔

دپکے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر تعلیم کے لیے کام کرنے کا دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی سیاسی رہنما ووٹ مانگنے کے لیے گاؤں میں آئے تو عوام اسے کہیں کہ جب تک وہ تعلیم کے لیے کام نہیں کرتا، وہ ووٹ مانگنے ان کے دروازے پر نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست کے لیے ہم ذات اور برادری کے جھنڈے لے کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے بچوں کے اسکولوں کے لیے بھی متحد ہوکر باہر نکلنا چاہیے۔

مذہب کے نام پر کی جانے والی سیاسی بیان بازی کا حوالہ دیتے ہوئے ابھجیت دپکے نے کہا کہ یہ لوگ مسلسل کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے۔ اتنے برسوں میں مذہب ختم نہیں ہوا تو کیا آپ کے دورِ اقتدار میں وہ ختم ہوجائے گا؟ مذہب کہیں نہیں جائے گا، لیکن بچوں کا مستقبل ضرور متاثر ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزراء اور اراکین اسمبلی اپنے بچوں کو بھی سرکاری اسکولوں میں پڑھائیں تاکہ انہیں ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو درپیش حقیقی مسائل کا اندازہ ہوسکے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دادا بھسے کو وزیرِ اسکولی تعلیم کے عہدے پر برقرار رہنا چاہیے تو دپکے نے کہا کہ اسکولوں کی موجودہ حالت دیکھ کر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وزیرِ تعلیم کو اس عہدے پر برقرار نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی سرکاری اسکولوں کی بہتری کی فوری ضرورت کو سمجھنا چاہتی ہے تو وزراء اور منتخب نمائندوں کو اپنے بچوں کو انہی اسکولوں میں تعلیم دینی چاہیے۔

دپکے نے مزید الزام لگایا کہ برسوں سے اقتدار میں رہنے کے باوجود موجودہ حکومت سرکاری اسکولوں کی حالت میں خاطر خواہ تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی طلبہ ایسے اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جہاں ٹین کی چھتیں ٹوٹی ہوئی یا رسنے والی ہیں اور مناسب تعداد میں بینچ بھی دستیاب نہیں ہیں۔ اگر دس سال میں یہ بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاسکے تو حکومت کو بتانا چاہیے کہ اس نے کیا حاصل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ CJP اور مقامی شہری اسکولوں کے مسائل کے خلاف اجتماعی طور پر آواز اٹھائیں گے اور حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ ان طلبہ کے لیے محفوظ آمدورفت کا انتظام کیا جائے جو کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر اسکول پہنچتے ہیں۔

اسکولوں میں سانپ کے کاٹنے سے بچوں کی مبینہ اموات کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دپکے نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکام طلبہ کو محفوظ ماحول میں تعلیم فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے پہلے CJP ٹیم کی جانب سے معائنہ کیے گئے ایک اسکول کے غیر صحت بخش ماحول پر بھی تشویش ظاہر کی اور الزام لگایا کہ اسکول کے پیچھے جمع کباڑ اور گندگی کی وجہ سے سانپوں کی موجودگی کے لیے سازگار حالات پیدا ہوگئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ CJP کی جانب سے کیے گئے معائنوں کے بعد بعض اسکولوں میں متعلقہ حکام نے کام شروع بھی کیا ہے۔

ابھجیت دپکے نے جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے عوامی شمولیت کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے دوبارہ اپنی آواز بلند کرنا شروع کردی ہے۔ جمہوریت میں مزید تنظیمیں اور تحریکیں سامنے آنی چاہئیں۔ جتنے زیادہ لوگ آگے آکر اپنی بات کہیں گے، ہماری جمہوریت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔

جین زی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2029 کے انتخابات تک نوجوان ایک بڑی انتخابی طاقت بن جائیں گے اور سیاسی جماعتوں کو ان کے مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو موجودہ وقت میں اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والی نوجوان نسل کے لیے بھی کام کرنا چاہیے اور خبردار کیا کہ اگر نوجوانوں کے مسائل کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والے انتخابات میں وہ حکومتوں سے جواب طلب کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر نہیں کی تو احتجاج کی لہر گاؤں گاؤں تک پھیل سکتی ہے۔

لاتور میں NEET پیپر لیک معاملے کی CBI تحقیقات کے بارے میں دپکے نے الزام عائد کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تفتیش میں نچلی سطح کے ملزمین کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ بڑے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اتنا بڑا معاملہ نظام میں اعلیٰ عہدیداروں کی مبینہ شمولیت کے بغیر پیش آیا ہوگا۔ صرف چند نچلی سطح کے لوگوں کو گرفتار کرکے کارروائی کا دعویٰ کرنا کافی نہیں ہے۔

مجموعی طور پر ابھجیت دپکے نے اسکول کے دورے کے ذریعے سرکاری اسکولوں میں فوری طور پر بنیادی سہولیات بہتر بنانے، وزراء اور منتخب نمائندوں کو جوابدہ بنانے اور بہتر تعلیمی سہولیات کے لیے عوامی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

ادارے کی تعلیمی و انتظامی ٹیم کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ, مستقبل میں بھی قوم و ملک کی خدمت کا عزم

مالیگاؤں (پریس ریلیز) جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی (منصورہ) کے زیرِ انصرام جاری مولانا مختار احمد ٹیکنیکل کیمپس (MMANTC)، المعروف منصورہ انجینئرنگ کالج کو تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات، بہترین کارکردگی اور معیارِ تعلیم کے فروغ کے اعتراف میں باوقار ’’PRIDE OF NATION Award-2026‘‘ سے نوازا گیا۔

یہ باوقار اعزاز جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی کے معزز سیکریٹری جناب راشد ارشد مختار نے ادارے کی جانب سے حاصل کیا۔ PRIDE OF NATION Award-2026 کی تقریب 20 اگست 2026 کو ایشیا ٹوڈے میڈیا کے زیرِ اہتمام اورنگ آباد (چھترپتی سمبھاجی نگر)، مہاراشٹر میں منعقد ہوئی۔

یہ اعزاز منصورہ انجینئرنگ کالج کے اساتذہ، غیر تدریسی عملے اور طلبہ کی مسلسل محنت، تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کی کاوشوں، طلبہ کی مؤثر رہنمائی اور ادارے کی مجموعی ترقی کے لیے انجام دی جانے والی انتھک خدمات کا اعتراف ہے۔

اس اعزاز پر جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی کے معزز چیئرمین جناب ارشد مختار صاحب نے منصورہ انجینئرنگ کالج کے تمام اساتذہ، غیر تدریسی عملے اور طلبہ کو دلی مبارکباد پیش کی اور اسے ادارے کی تعلیمی و انتظامی ٹیم کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا۔

ادارے سے وابستہ افراد نے اس اعزاز کو اپنے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے مستقبل میں بھی اعلیٰ تعلیمی معیار، تحقیق، طلبہ کی ہمہ جہت ترقی اور قوم و ملک کی خدمت کے عزم کا اظہار کیا۔

اقلیتی طلبہ کیلئے اسکالرشپ اور مالیگاؤں حج ہاؤس کی تعمیر کیلئے ممبئی میں نمائندگی

مالیگاؤں: مالیگاؤں کے سابق رکن اسمبلی، اسلام پارٹی کے بانی و قائد آصف شیخ رشید نے آج ممبئی میں مہاراشٹر کی نائب وزیر اعلیٰ و وزیر اقلیت سنیترا تائی پوار سے ملاقات کی اور مالیگاؤں شہر کے مختلف اہم مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی ترقی اور اقلیتی طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے اہم مطالبات پیش کیے۔ملاقات کے دوران آصف شیخ رشید نے کہا کہ مالیگاؤں ایک اہم اقلیتی شہر ہے، جہاں بڑی تعداد میں غریب اور متوسط طبقے کے افراد زندگی بسر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں روزگار اور آمدنی کے محدود ذرائع کے باعث شہریوں کی معاشی حالت انتہائی کمزور ہے اور مالیگاؤں کی ترقی کا بڑا انحصار سرکاری امداد اور خصوصی گرانٹس پر ہے۔انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ مالیگاؤں شہر کے بنیادی مسائل، سڑکوں، پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر ضروری شہری سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے کی خصوصی ترقیاتی گرانٹ منظور کی جائے، تاکہ شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کو رفتار دی جاسکے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

آصف شیخ نے مالیگاؤں میں ریجنل حج ہاؤس کی تعمیر کا مطالبہ بھی نائب وزیر اعلیٰ سنیترا پوار کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں نہ صرف ناسک ضلع بلکہ جلگاؤں، دھولیہ اور نندوربار سمیت اطراف کے علاقوں کے لیے بھی ایک اہم مرکزی شہر ہے، جہاں بڑی تعداد میں مسلم آبادی آباد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں سے ہر سال بڑی تعداد میں عازمینِ حج سفرِ حج پر روانہ ہوتے ہیں، لیکن حج سے متعلق ضروری سہولیات کے لیے انہیں دور دراز مقامات کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اگر مالیگاؤں میں ریجنل حج ہاؤس قائم کیا جاتا ہے تو مالیگاؤں کے ساتھ ساتھ اطراف کے اضلاع کے عازمینِ حج کو بھی بڑی سہولت حاصل ہوگی۔

آصف شیخ نے مطالبہ کیا کہ حکومت مالیگاؤں میں حج ہاؤس کی تعمیر کے لیے ضروری منظوری اور فنڈز فراہم کرتے ہوئے اس منصوبے کو جلد عملی شکل دے۔

ملاقات میں آصف شیخ نے اقلیتی طلبہ کی تعلیمی مشکلات کا مسئلہ بھی تفصیل سے پیش کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر حکومت اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالرشپ کا دائرہ وسیع کرے، خصوصاً ہائر ایجوکیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے خصوصی مالی امداد کا انتظام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باعث کئی باصلاحیت طلبہ اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایسے طلبہ کو حکومت کی جانب سے لاکھوں روپے تک کی اسکالرشپ فراہم کی جائے تو وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں اور ملک و ریاست کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ملاقات کے دوران نائب وزیر اعلیٰ و وزیر اقلیت سنیترا تائی پوار نے آصف شیخ رشید کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات پر مثبت تیقن دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان معاملات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور متعلقہ امور پر ضروری کارروائی کی جائے گی۔

آصف شیخ رشید نے امید ظاہر کی کہ نائب وزیر اعلیٰ کی مثبت یقین دہانی کے بعد مالیگاؤں کے لیے خصوصی ترقیاتی گرانٹ، ریجنل حج ہاؤس کی تعمیر اور اقلیتی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیمی اسکالرشپ کے مطالبات پر جلد عملی پیش رفت ہوگی۔

دو جاں بحق، 15 سے 20 زخمی,بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک

مالیگاؤں: مالیگاؤں–چالیسگاؤں روڈ پر بدھ کی صبح ایک دل دہلا دینے والے سڑک حادثے میں دو افراد جاں بحق جبکہ 15 سے 20 افراد زخمی ہوگئے۔ یہ حادثہ مالیگاؤں تعلقہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں دہیواڑ گاؤں کے قریب تقریباً ساڑھے دس بجے پیش آیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق مالیگاؤں سے چالیسگاؤں کی جانب جانے والی بس اور مخالف سمت سے آنے والے ایسر ٹرک کے درمیان سرِراہ زوردار تصادم ہوگیا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ دونوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور بس تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

حادثے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بس کا اسٹیئرنگ وہیل ڈرائیور کی سیٹ سے آگے بڑھ کر پہلی سیٹ تک جا پہنچا، جبکہ بس کے تقریباً تمام سیٹ اپنی جگہ سے اکھڑ گئے۔ حادثے کے بعد موقع پر چیخ و پکار مچ گئی اور مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی۔

پولیس کے مطابق حادثے میں دو افراد کی موت واقع ہوئی ہے، جبکہ 15 سے 20 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی مالیگاؤں تعلقہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور جائے حادثہ کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری کارروائی شروع کردی۔ پولیس کی جانب سے حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کی جارہی ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ حادثے کے لیے کس گاڑی کے ڈرائیور کی غفلت ذمہ دار تھی۔

پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے کسی رشتہ دار یا عزیز کا اس بس میں سفر کرنا معلوم ہو تو وہ متعلقہ اسپتال پہنچ کر زخمیوں اور جاں بحق افراد کی شناخت میں تعاون کریں اور متاثرین کو ضروری طبی و دیگر مدد فراہم کریں۔

اس المناک حادثے کی خبر پھیلتے ہی مالیگاؤں اور اطراف کے علاقوں میں غم و تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس معاملے کی مزید تفتیش میں مصروف ہے اور حادثے سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

 دو کروڑ سے زائد ووٹروں کے انومریشن فارم جمع نہیں ہوئے

ممبئی: مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے تحت گنتی فارم جمع کرنے کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے،تاہم ریاست میں 2 کروڑ 7 لاکھ 93 ہزار 916 ووٹروں کے گنتی فارم ابھی تک جمع یا اسکین نہیں ہو سکے ہیں۔ چیف الیکشن آفیسر کے دفتر کی جانب سے 17 اگست 2026 کو جاری کردہ اعداد و شمار میں یہ اہم معلومات سامنے آئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ریاست میں مجموعی طور پر 9 کروڑ 78 لاکھ 54 ہزار 49 ووٹر درج ہیں۔ ان میں سے 7 کروڑ 69 لاکھ 52 ہزار 262 ووٹروں کے گنتی فارم ڈیجیٹائز کیے جا چکے ہیں، جو مجموعی ووٹروں کا 78.64 فیصد ہے۔ جبکہ 21.25 فیصد یعنی 2 کروڑ سے زائد ووٹروں کے فارم ابھی تک جمع نہیں ہوئے ہیں۔

دوسری جانب، ڈیجیٹائز کیے گئے فارم اور ابھی تک جمع نہ ہونے والے فارم کو ملا کر 9 کروڑ 77 لاکھ 46 ہزار 178 ووٹروں کا ڈیٹا آن لائن عمل میں شامل ہو چکا ہے، جو ریاست کے کل ووٹروں کا تقریباً 99.89 فیصد بنتا ہے۔الیکشن حکام نے واضح کیا ہے کہ گنتی فارم جمع کرانے کے لیے مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔

ضلع وائز صورتحال پر نظر ڈالیں تو تھانہ میں 38.77 فیصد، ممبئی شہر میں 37.57 فیصد، ممبئی مضافاتی علاقے میں 34.48 فیصد، پونہ میں 31.92 فیصد، ناگپور میں 30.32 فیصد اور پال گھر میں 28.88 فیصد گنتی فارم ابھی تک جمع نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس ہنگولی میں 91.18 فیصد، بلڈھانہ میں 90.83 فیصد اور لاتور میں 89.21 فیصد فارم جمع ہونے کی اطلاع ہے۔

اسی طرح SIR کے اگلے مرحلے میں 24 اگست 2026 کو مسودہ ووٹر لسٹ (Draft Electoral Roll) جاری کی جائے گی۔ اس کے بعد ووٹروں کو اپنے نام اور تفصیلات کی جانچ کرنے اور دعوے و اعتراضات داخل کرنے کا موقع ملے گا۔ دعوے اور اعتراضات 24 اگست سے 23 ستمبر 2026 تک داخل کیے جا سکیں گے۔اگر کسی اہل ووٹر کا نام مسودہ ووٹر لسٹ میں موجود نہ ہو تو وہ فارم 6 کے ذریعے نام شامل کرنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 جبکہ پتہ، تصویر یا دیگر تفصیلات میں ترمیم کے لیے فارم 8 استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یکم اکتوبر 2026 تک 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے نئے ووٹر بھی مقررہ مدت میں اپنا نام درج کرا سکیں گے۔الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق دعوے اور اعتراضات کی جانچ کے بعد 27 اکتوبر 2026 کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔ ایسے میں تمام ووٹروں کے لیے ضروری ہے کہ مسودہ فہرست جاری ہونے کے بعد اپنا نام، پتہ، تصویر اور دیگر تفصیلات لازماً چیک کریں، تاکہ کسی غلطی یا نام کے اخراج کی صورت میں مقررہ مدت کے اندر اصلاح یا اعتراض کیا جا سکے۔

Random Posts