TRENDING NOW

Recent News

News

139

 گرام ایم ڈی پاؤڈر برآمد، تقریباً 11 لاکھ روپے کا مال ضبط 

چاندوڑ: (یکم اگست) چاندوڑ پولیس نے منشیات کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ممبئی سے مالیگاؤں آنے والی ایک کار سے 139 گرام ایم ڈی (میفیڈرون) پاؤڈر برآمد کر لیا اور مالیگاؤں کے تین نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے نشہ آور مادہ، کار اور دیگر سامان سمیت تقریباً 10 لاکھ 78 ہزار روپے مالیت کا سامان ضبط کیا ہے۔

پولیس کے مطابق یکم اگست، بروز سنیچر کو خفیہ اطلاع کی بنیاد پر چاندوڑ ٹول پلازہ پر ممبئی سے مالیگاؤں کی جانب آنے والی کیا کار (MH 41 BL 2720) کو روک کر تلاشی لی گئی۔ تلاشی کے دوران گاڑی سے 139 گرام ایم ڈی پاؤڈر برآمد ہوا، جس کی مالیت تقریباً 2 لاکھ 78 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔

اس کارروائی کی قیادت چاندوڑ پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر واگھ اور مالیگاؤں کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سورج گنجال کی خصوصی ٹیم نے کی۔ کارروائی میں پولیس کانسٹیبل راکیش اوبالے، راکیش جادھو، دینیش شراوٹے، اکشے چودھری اور رام میسال نے حصہ لیا۔

گرفتار ملزمان کی شناخت عبدالرحمن شیخ اکبر (23 سال، رونق آباد، مالیگاؤں)، شیخ ریان شیخ شفیع الدین (32 سال، سلامت آباد، مالیگاؤں) اور شیخ شیبان شیخ نثار (21 سال، عباس نگر، مالیگاؤں) کے طور پر ہوئی ہے۔

پولیس نے تینوں ملزمان کے خلاف این ڈی پی ایس (NDPS) ایکٹ کے تحت چاندوڑ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ کارروائی ناسک دیہی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈاکٹر ڈی۔ ایس۔ سوامی اور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سورج گنجال کی ہدایات پر انجام دی گئی، جبکہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

خفیہ اطلاع پر کمبھارواڑا میں مشترکہ کارروائی، آر ٹی او کی مدد سے گاڑیوں کے اصل مالکان کی شناخت جاری

مالیگاؤں: (یکم اگست) مالیگاؤں شہر پولس نے جرائم کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے کمبھارواڑا علاقے میں قائم ایک مبینہ جگار اڈے پر چھاپہ مار کر 51 موٹر سائیکلیں ضبط کر لی ہیں۔ پولس کے مطابق مذکورہ اڈے پر مٹکا کھیلنے والے افراد اپنی موٹر سائیکلیں رہن رکھ کر رقم حاصل کرتے تھے۔کارروائی کے بعد ضبط شدہ گاڑیوں کی اصل ملکیت کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔اس طرح کی تفصیلات ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولس سورج گنجال نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا ۔انہوں نے کہا کہ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر مالیگاؤں ٹریفک برانچ، آر سی پی اور شہر پولس اسٹیشن کی مشترکہ ٹیم نے یہ کارروائی انجام دی۔ چھاپے کے دوران 51 موٹر سائیکلیں برآمد ہوئیں، جن کے اصل مالکان سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ آر ٹی او کی مدد سے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور قانونی حیثیت کی جانچ کے بعد آئندہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسی دوران پولیس کو موٹر سائیکل کی چوری کے مقدمات میں بھی اہم کامیابی حاصل ہوئی۔ 17 اور 27 جولائی کو درج مقدمات کی تفتیش کے دوران ایک نابالغ ملزم کو حراست میں لیا گیا، جس سے پوچھ گچھ کے بعد مزید پانچ ملزمان کے نام سامنے آئے۔ ان ملزمان کی نشاندہی پر مجموعی طور پر 12 موٹر سائیکلیں اور ایک سائیکل برآمد کی گئی۔گرفتار ملزمان میں جلیل احمد محمد رئیس (30 سال، مہاڈا پلاٹ)، محمد مجید خلیل احمد (28 سال، عائشہ نگر قبرستان)، عرفات انجم جاوید احمد (25 سال، مہاڈا پلاٹ)، محمد ساجد محمد سلیم (19 سال، گولڈن نگر) اور محمد شہبان سجاد حسین (29 سال، گولڈن نگر) شامل ہیں، جبکہ ایک نابالغ بھی اس معاملے میں زیر حراست ہے۔

پولس کے مطابق برآمد شدہ گاڑیوں میں سے سات موٹر سائیکلوں اور ایک سائیکل کے چوری کے مقدمات کا انکشاف ہو چکا ہے۔ یہ مقدمات مالیگاؤں شہر، رمضان پورہ، پوارواڑی، کیمپ، چھاؤنی اور سٹانہ پولس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار سے متعلق ہیں۔ دیگر ضبط شدہ گاڑیوں کے مالکان کی شناخت آر ٹی او کے تعاون سے کی جا رہی ہے تاکہ تصدیق کے بعد انہیں ان کے اصل مالکان کے حوالے کیا جا سکے۔

تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ بعض ملزمان کے خلاف پہلے سے بھی مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔ محمد ساجد محمد سلیم کے خلاف تین، محمد شہبان سجاد حسین کے خلاف دو جبکہ عرفات انجم جاوید احمد کے خلاف ایک مقدمہ پہلے ہی درج ہے۔ پولس نے بتایا کہ گرفتار پانچوں ملزمان کو عدالت نے چار روزہ پولس ریمانڈ پر بھیج دیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔یہ پوری کارروائی ضلعی پولس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ڈی ایس سوامی کی رہنمائی میں پولس انسپکٹر سندیش پاٹل اور ان کی ٹیم نے انجام دی۔ کارروائی میں پولیس حوالدار داندگے، ٹھاکر، شیلاوتے، باگل، پولیس نائک پاٹل، پولیس کانسٹیبل بورا اور دیگر افسران نے اہم کردار ادا کیا۔واضح رہے کہ ضبط شدہ گاڑیوں کی مالیت کے حوالے سے پولس کی جانب سے مزید تفصیلی تصدیق کا عمل جاری ہے، جبکہ تمام قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد اصل مالکان کو ان کی گاڑیاں واپس کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔اس طرح کی اطلاع بھی ایڈیشنل ایس پی سورج گنجال نے دی ۔

شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈ کے خطرات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کا بڑا فیصلہ؛ این ڈی آر ایف تعینات، عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

ناسک :(31 جولائی) شدید بارش، بادل پھٹنے جیسی صورتحال، سیلاب اور لینڈ سلائیڈ کے خدشات کے پیش نظر ضلع ناسک کی آٹھ تحصیلوں میں یکم اگست 2026 بروز سنیچر  کو تمام اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلع کلکٹر آفس ناسک کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق کیا گیا ہے۔جاری کردہ حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے 31 جولائی کو ضلع ناسک کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے غیر معمولی بارش، بادل پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈ جیسے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ اسی کے پیش نظر ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (SEOC) نے  (NDRF) کی ٹیم بھی ضلع ناسک میں تعینات کر دی ہے۔

حکم نامے کے مطابق مالیگاؤں، ناند گاؤں، باگلان، کلون، تریمبکیشور، اگتپوری، پیٹھ اور سرگانہ تحصیلوں کے تمام پرائمری، سیکنڈری، ہائر سیکنڈری اسکول، آنگن واڑیاں، آشرم اسکول، امدادی و غیر امدادی، نجی تعلیمی ادارے اور تمام کالج یکم اگست کو بند رہیں گے۔انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ طلبہ کے لیے تعطیل رہے گی، تاہم پرنسپل، ہیڈ ماسٹر، اساتذہ اور دیگر تعلیمی عملہ کو مقامی انتظامیہ کی ہدایت پر آفتی انتظام سے متعلق ذمہ داریوں کے لیے حاضر رہنا ہوگا۔

ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ انتہائی ضروری کام کے علاوہ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور ندی ، نالوں، تالابوں، جھیلوں، پلوں، قلعوں، گھاٹوں، سیلاب زدہ علاقوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور لینڈ سلائیڈ کے خطرے والے مقامات کا رخ کرنے سے مکمل گریز کریں۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ضلع بھر کے تمام آبی ذخائر، ٹریکنگ پوائنٹس، دریا کنارے، سیاحتی مقامات اور سیلاب سے متاثرہ مذہبی مقامات کو عارضی طور پر ممنوعہ علاقے قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ تحصیلوں میں ہفتہ وار بازار، میلے، جلسے اور دیگر بڑی عوامی تقریبات بھی یکم اگست کے لیے ملتوی کر دی گئی ہیں۔

انتظامیہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ نشیبی، سیلاب زدہ اور لینڈ سلائیڈ کے خطرے والے علاقوں سے شہریوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔ ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، فائر بریگیڈ، ہوم گارڈ اور مقامی ریسکیو ٹیموں کو حساس علاقوں میں تعینات رکھنے کے ساتھ تمام متعلقہ افسران اور عملہ کو 24 گھنٹے کنٹرول روم میں مستعد رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔حکم نامے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ مذکورہ حکم رہائشی ڈپٹی کلکٹر و چیف ایگزیکٹو آفیسر، ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ناسک، روہت کمار راجپوت کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

पिछड़े वर्गों तक योजनाएं पहुँचाने पर जोर,शिक्षा व सामाजिक जागरूकता पर बना रोडमैप

संविधान जागरूकता और शिक्षा अभियान को मिलेगा नया विस्तार

नई दिल्ली, 31 जुलाई: नई दिल्ली स्थित इंडिया इस्लामिक कल्चरल सेंटर (IICC) में 30 जुलाई को मुस्लिम वेलफेयर एसोसिएशन के राष्ट्रीय पदाधिकारियों की एक महत्वपूर्ण बैठक राष्ट्रीय अध्यक्ष सलीम सारंग की अध्यक्षता में संपन्न हुई। बैठक में संगठन को देशभर में और अधिक सशक्त एवं प्रभावी बनाने के साथ-साथ समाज के वंचित वर्गों के उत्थान को लेकर विभिन्न विषयों पर व्यापक चर्चा की गई।

बैठक में विशेष रूप से समाज के पिछड़े वर्गों, युवाओं एवं महिलाओं को संगठन से जोड़कर शिक्षा के क्षेत्र में प्रभावी कार्य करने की रणनीति पर विस्तार से विचार-विमर्श हुआ। साथ ही संविधान द्वारा प्रदत्त अधिकारों एवं कानूनी प्रावधानों की जानकारी जन-जन तक पहुँचाकर समाज में जागरूकता बढ़ाने तथा सामाजिक सशक्तिकरण को गति देने पर बल दिया गया।

इस दौरान केंद्र एवं राज्य सरकार की विभिन्न जनकल्याणकारी योजनाओं का लाभ समाज के पिछड़े एवं जरूरतमंद वर्गों तक प्रभावी ढंग से पहुँचाने के लिए संगठित रूप से कार्य करने की आवश्यकता पर भी जोर दिया गया। पदाधिकारियों ने इस दिशा में जनजागरण अभियान चलाने और संगठन के माध्यम से लोगों को योजनाओं की जानकारी उपलब्ध कराने का संकल्प व्यक्त किया।

बैठक में उपस्थित सभी राष्ट्रीय एवं राज्य स्तरीय पदाधिकारियों ने अपने-अपने सुझाव एवं विचार साझा किए तथा संगठन को देशभर में अधिक सशक्त, सक्रिय और जनसेवा के प्रति समर्पित बनाने का संकल्प लिया। राष्ट्रीय अध्यक्ष सलीम सारंग ने अपने मार्गदर्शन में संगठन की एकजुटता, अनुशासन और समाजहित में निरंतर कार्य करने का आह्वान करते हुए कहा कि शिक्षा, जागरूकता और सेवा के माध्यम से ही समाज का समग्र विकास संभव है।

बैठक में संगठन के राष्ट्रीय उपाध्यक्ष एवं पूर्व मंत्री मोहम्मद निसार, राष्ट्रीय उपाध्यक्ष मोहिबुल्लाह खान, दिल्ली स्टेट प्रेसिडेंट सलीम अहमद, राष्ट्रीय महासचिव एवं प्रवक्ता सतवीर सिंह जाटव, राष्ट्रीय सरचिटणीस सूफी मोहम्मद शफीक खान, मुंबई जनरल सेक्रेटरी (नॉर्थ ईस्ट) सूफी गुलाम खान, पश्चिमी उत्तर प्रदेश अध्यक्ष शमशाद हुसैन, मंडल अध्यक्ष (मुरादाबाद) मुशाहिद हुसैन, नासिर हुसैन, सय्यद मोहम्मद, सय्यद अनवर, तसलीम खान, एडवोकेट सोहेल, मोहम्मद नवेद, डॉ. बी. डी. खान तथा मोहम्मद मेहरास सहित अनेक पदाधिकारी उपस्थित रहे।

حکم نامہ کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جیل،جرمانہ اور سخت سزا کا اطلاق، شکایت کیلئے ہیلپ لائن نمبر جاری 

ممبئی : مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر تکارام منڈے نے 28 جولائی 2026 کو ایک اہم حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام سرکاری، امدادی اور نجی اسکولوں میں بچوں کے لیے محفوظ، صحت مند اور متوازن غذائی نظام کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم نامہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (اسکول کے بچوں کے لیے محفوظ غذا اور متوازن خوراک) ریگولیشنز 2020 کے مکمل نفاذ کے لیے جاری کیا گیا ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ہر شخص کو باعزت زندگی کا حق حاصل ہے، جس میں صحت اور غذائیت کا حق بھی شامل ہے۔ آرٹیکل 47 ریاستی حکومت پر عوام کی غذائیت کی سطح بلند کرنے اور صحت بہتر بنانے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ اسکول کے بچے معاشرے کا سب سے حساس طبقہ ہیں اور غیر محفوظ یا غذائیت سے محروم خوراک ان کے جسمانی، ذہنی اور تعلیمی ترقی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت ریاستی فوڈ سیفٹی کمشنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس ایکٹ اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ 2020 کے ریگولیشنز 1 جولائی 2021 سے نافذ العمل ہیں اور پورے بھارت بشمول مہاراشٹر کے تمام اسکولوں پر لاگو ہیں۔ ان میں اسکول انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ خود کھانا فراہم کرنے کی صورت میں ایف ایس ایس اے آئی لائسنس یا رجسٹریشن حاصل کریں، ٹھیکیداروں کے پاس بھی درست لائسنس ہو، اور ہائی فٹ، سالٹ، شوگر (ایچ ایف ایس ایس) والے کھانے کی فروخت، تقسیم یا نمائش پر مکمل پابندی عائد کریں۔

حکم نامے کے مطابق یہ آرڈر سرکاری، امدادی اور غیر امدادی نجی اسکولوں، پری پرائمری سے لے کر سیکنڈری سطح تک، رہائشی اسکولوں اور ہاسٹلز پر لاگو ہوگا۔ریاستی بورڈ، سی بی ایس ای، آئی سی ایس ای اور دیگر بورڈز سے وابستہ تمام اسکول بھی اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ تاہم دو سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے چلڈرن کیئر یا ڈے کیئر سینٹرز اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ تمام فوڈ بزنس آپریٹرز، کینٹین، مڈ ڈے میل سپلائرز، ٹک شاپس اور اسکول کے آس پاس کھانا فراہم کرنے والے افراد و ادارے بھی اس آرڈر کے پابند ہوں گے۔ہر اسکول انتظامیہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ طلبہ کو فراہم کی جانے والی خوراک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن کی غذائی رہنما خطوط اور ICMR کی ہدایات کے مطابق ہو۔کھانے میں کاربوہائیڈریٹ،  پروٹین، چکنائی کے ساتھ آئرن ، کیلشیم، وٹامن اے اور ڈی، آیوڈین اور فولیٹ جیسی اہم غذائی اجزاء شامل ہوں۔ پھل، سبزیاں، اناج، دالیں اور مقامی صحت مند اشیاء کو باقاعدگی سے مینو میں شامل کیا جائے۔ ایچ ایف ایس ایس اشیاء جیسے زیادہ چینی والے مشروبات، کاربونیٹڈ ڈرنکس، تلا ہوا اسنیکس اور انتہائی پراسیسڈ فوڈز کی فروخت یا دستیابی پر مکمل پابندی ہوگی۔ پینے کا پانی محفوظ اور اعلیٰ معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔اسکول انتظامیہ کی ذمہ داریاں واضح کی گئی ہیں جن میں تمام فوڈ آپریٹرز کے پاس درست ایف ایس ایس اے آئی لائسنس کی جانچ، شیڈول 4 کے تحت صفائی و صحت کے معیارات کی پابندی، صحت و تندرستی کے نوڈل آفیسر کی تقرری و تربیت،اسکول کے گیٹ پر انتباہی بورڈ لگانا، اور 50 میٹر کے دائرے میں ایچ ایف ایس ایس اشیاء کی فروخت روکنا شامل ہے۔اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو مڈ ڈے میل اور دیگر غذائی اسکیموں کے تحت کام کرنے والے تمام سپلائرز کے لائسنس کی تصدیق کرنی ہوگی اور ہر سال 31 مارچ تک کمشنر کو تعمیل کی رپورٹ جمع کرانی ہوگی۔

تعلقہ بورڈز کو غذائی حفاظت کی تعمیل کو اسکول کی وابستگی اور تجدید کے لیے لازمی شرط بنانا ہوگا۔ فوڈ سیفٹی آفیسرز کو ہر تعلیمی سال میں کم از کم دو بار اسکولوں کا معائنہ کرنا ہوگا، کھانے کے نمونے جمع کرنے ہوں گے اور بغیر لائسنس والے آپریٹرز کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ 50 میٹر زون کی خلاف ورزی پر ایچ ایف ایس ایس اشیاء ضبط کی جا سکیں گی اور متعلقہ کارروائی کی جائے گی۔حکم نامے میں ایٹ رائٹ اسکول مہم کے تحت ہر اسکول کو غذائی پالیسی بنانے، محفوظ پینے کے پانی کے مراکز قائم کرنے، سال میں کم از کم چار آگاہی نشستیں منعقد کرنے اور صحت مند خوراک کا نمونہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔والدین اور طلبہ کو ایچ ایف ایس ایس اشیاء کے نقصانات، بچوں کی غذائی ضروریات اور ایف ایس ایس اے آئی ہیلپ لائن 1800-112-100 کے ذریعے شکایت درج کرانے کے طریقے سے آگاہ کیا جائے گا۔یہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہے اور آئندہ تمام تعلیمی سالوں کے لیے مستقل آرڈر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی خلاف ورزی پر فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت سخت سزائیں عائد کی جا سکتی ہیں جن میں جیل اور بھاری جرمانہ شامل ہے۔ کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں، ڈسٹرکٹ کلیکٹرز، بورڈز اور فوڈ سیفٹی آفیسرز کو اس حکم کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔اس آرڈر کا مقصد مہاراشٹر کے لاکھوں اسکول جانے والے بچوں کو غیر محفوظ اور غیر صحت مند خوراک سے بچانا اور ان کی صحت مند نشوونما کو یقینی بنانا ہے۔

Random Posts