TRENDING NOW

Recent News

News


 اورنگزیب کو سالگرہ کی مبارکباد، سوشل میڈیا پر نیا تنازعہ

ممبئی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کارپوریٹر سحر شیخ کی جانب سے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کرنے اور ان کی تاریخ و ورثے کا دفاع کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔

سحر شیخ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ انسٹاگرام پر متعدد تصاویر اور پیغامات شیئر کیے، جن میں مغل بادشاہ اورنگزیب، مغلیہ دور کی تاریخ اور اس عہد کی تاریخی عمارتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

اپنی پوسٹ میں انہوں نے اورنگزیب عالمگیر کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے لکھا:

’’مغل سلطنت کے سب سے زیادہ متنازعہ بادشاہ اورنگزیب (رضی اللہ عنہ) کو سالگرہ مبارک۔ وہ بادشاہ جس نے ایمان اور طاقت کے ساتھ حکومت کی۔ ملک الہند۔ اور یاد رکھیے، تاریخ کو کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔‘‘

سحر شیخ نے اپنی ایک تصویر میں اورنگزیب کی تصویر کے ساتھ شیر کی تصویر بھی شیئر کی۔ اس پر درج عبارت میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ بادشاہ کی شبیہ کو خراب کرنے اور ان کی کردار کشی کے لیے ہر سال پروپیگنڈہ فلمیں بنائی جاتی ہیں، لیکن اس سے ان کی تاریخی اہمیت ختم نہیں ہوسکتی۔

سحر شیخ نے اپنی پوسٹ میں ہمایوں کے مقبرے کی تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ اس تاریخی عمارت کے سامنے کھڑی نظر آرہی ہیں۔ اس تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا:

’’ویسے میرے پیچھے بادشاہ ہمایوں کا مقبرہ ہے۔ کبھی سوچا ہے کہ جو لوگ ایسے مقبرے تعمیر کرواتے تھے، وہ ملک کیسے چلاتے ہوں گے؟‘‘

اس کے علاوہ انہوں نے تاج محل کے سامنے اپنی متعدد تصاویر بھی شیئر کیں اور مغل دور کی تعمیراتی صلاحیتوں اور تاریخی ورثے کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغلوں نے تاج محل تعمیر کروایا، جس نے ہندوستانی ورثے کو عالمی سطح پر شناخت دلائی۔

سحر شیخ نے اپنی ایک اور تصویر کے ساتھ مغل تاریخ کو نصابی کتابوں سے نکالنے کی کوششوں پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے لکھا:

’’اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ مغل تاریخ کو کتابوں سے مٹانا چاہتے ہیں۔ کتابوں سے تو مغلوں کو نکال سکتے ہیں، لیکن اس سرزمین سے کیسے مٹائیں گے؟‘‘

اپنی آخری تصویر کے ساتھ انہوں نے یہ عبارت بھی لکھی:

’’ان شاء اللہ مغلیہ سلطنت کا اقبال ہمیشہ بلند رہے۔‘‘

سحر شیخ کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ فری پریس جرنل کی رپورٹ کے مطابق ان کی پوسٹ کو تقریباً 25 ہزار لائکس مل چکے تھے، جبکہ انہوں نے اپنی پوسٹ پر تبصروں کا سیکشن بھی بند کر رکھا تھا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر کئی صارفین نے اس پوسٹ کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے سحر شیخ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعض صارفین نے مہاراشٹر کی تاریخی و سیاسی شناخت کا حوالہ دیتے ہوئے اورنگزیب کی تعریف پر اعتراض کیا، جبکہ کچھ نے اسے چھترپتی شیواجی مہاراج کی سرزمین کی توہین قرار دیا۔

اس طرح سحر شیخ کی جانب سے اورنگزیب کے حق میں کی گئی یہ سوشل میڈیا پوسٹ ایک مرتبہ پھر مغل تاریخ، اورنگزیب کی شخصیت اور ہندوستانی تاریخی ورثے سے متعلق سیاسی و سماجی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔


 ضمیر نے ملزم کو اعتراف جرم پر مجبور کردیا

تھانے: دوست کے قتل کے بعد تقریباً 20 روز تک مقتول دوست کے خواب میں نظر آنے کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص نے بالآخر اپنے ضمیر کی خلش کے باعث تھانے پولیس کے سامنے جرم کا اعتراف کر لیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت پربھو کرکاڈے (24) کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ مقتول کی شناخت پلّو عرف وشال کدم (43) کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ واقعہ ڈومبیولی مغرب کے موتھاگاؤں علاقے میں پیش آیا۔

اطلاعات کے مطابق پربھو کرکاڈے اور اس کا دوست وشال کدم ایک مکان میں ساتھ بیٹھ کر شراب پی رہے تھے۔ اسی دوران دونوں کے درمیان کسی بات پر بحث شروع ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ بحث شدید جھگڑے میں تبدیل ہوگئی اور مبینہ طور پر غصے میں آکر پربھو کرکاڈے نے اپنے ہی دوست کو قتل کر دیا۔

قتل کے بعد ملزم گھبرا گیا اور اس نے اپنے مکان مالک سندیش مہاتر ے کو واقعے کی اطلاع دی۔ الزام ہے کہ مکان مالک نے پولیس کو اطلاع دینے کے بجائے ملزم کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اس معاملے میں پھنس گیا تو اس کی زندگی برباد ہو جائے گی، خصوصاً اس لیے کہ ابھی اس کی شادی بھی نہیں ہوئی ہے۔

اس کے بعد دونوں نے مبینہ طور پر جرم چھپانے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے مقتول کی لاش کو ایک بوری میں بھرا اور اسے ایک ویران مقام پر لے جا کر ندی کی کھاڑی (کریک) کے قریب پھینک دیا، تاکہ قتل کا سراغ نہ مل سکے۔

بیس دن تک خواب میں آتا رہا مقتول دوست

تاہم قتل کے بعد ملزم پربھو کرکاڈے مبینہ طور پر شدید ذہنی دباؤ اور احساسِ جرم میں مبتلا ہوگیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ تقریباً 20 دن تک اس کا مقتول دوست بار بار خواب میں آتا رہا۔ اس کیفیت کے باعث وہ ٹھیک سے سو بھی نہیں پا رہا تھا۔

بالآخر ضمیر کی خلش اور ذہنی پریشانی سے تنگ آکر پربھو کرکاڈے خود تھانے کرائم برانچ کے دفتر پہنچا اور وہاں اپنے دوست کے قتل کا اعتراف کر لیا۔

پولیس نے دونوں ملزمین کو کیا گرفتار

ملزم کے اعتراف کے بعد کرائم برانچ نے اسے اپنی تحویل میں لیا اور مزید کارروائی کے لیے وشنو نگر پولیس کے حوالے کر دیا۔

سینئر پولیس انسپکٹر رام چوپڑے نے تصدیق کی ہے کہ پولیس نے قتل اور لاش کو ٹھکانے لگانے کے معاملے میں پربھو کرکاڈے اور اس کے مکان مالک سندیش مہاتر ے، دونوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ قتل کے اصل حالات اور دونوں ملزمین کے کردار کی مکمل تفصیلات سامنے آسکیں۔

ایم آئی ایم میں رہ کر احساس ہوا کہ بی جے پی کو ہٹانا ہے، لیکن بی جے پی کے خلاف لڑائی نہیں لڑی جاتی بلکہ کانگریس کو نشانہ بنایا جاتا ہے

نئی دہلی: حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (AIMIM) کے سابق قومی ترجمان عاصم وقار نے انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ دہلی میں واقع کانگریس کے مرکزی دفتر ’’اندرا بھون‘‘ میں اترپردیش کانگریس کے صدر اجے رائے، اترپردیش کے انچارج راجندر پال گوتم اور کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی کی موجودگی میں عاصم وقار نے کانگریس کی رکنیت حاصل کی۔

کانگریس میں شمولیت کے بعد عاصم وقار نے کہا کہ ’’ہماری لڑائی ان لوگوں کے لیے ہے جو ملک سے محبت کرتے ہیں۔ ہمیں بی جے پی کو اکھاڑ پھینکنا ہے۔ مجھے ایم آئی ایم میں رہتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ بی جے پی کو ہٹانا ہے، لیکن بی جے پی کے خلاف لڑائی نہیں لڑی جاتی بلکہ کانگریس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی لیے میں کانگریس میں شامل ہو رہا ہوں۔ دراصل اگر بی جے پی کے خلاف کوئی لڑ رہا ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں۔‘‘

انہوں نے ہمایوں کبیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے ہمایوں کبیر کے بارے میں کہا تھا کہ وہ بی جے پی کا ایجنٹ ہے اور بابری مسجد جو بنوا رہا ہے، وہ بی جے پی بنوا رہی ہے۔ اس نے اسٹنگ آپریشن میں کہا تھا کہ مجھے 1100 کروڑ روپے ملے ہیں۔ ہماری حکومت آئے گی تو اس کی جانچ کروائیں گے۔‘‘

عاصم وقار نے مزید کہا کہ ’’میں سچ، صحیح، ملک اور سیکولرازم کے ساتھ ہوں۔ میں یہاں ٹکٹ کے لیے نہیں آیا ہوں۔ میں نے 20 سال سماج وادی پارٹی میں گزارے ہیں۔ کبھی اکھلیش یادو یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے کبھی کسی تبادلے یا تعیناتی تک کی بات کی ہو۔‘‘

اس موقع پر اترپردیش کانگریس کے انچارج راجندر پال گوتم نے کہا کہ ملک میں تمام طبقات کے لیے ایک تحریک چل رہی ہے۔ جمہوریت کو بچانے کے لیے راہل گاندھی لڑ رہے ہیں۔ راہل گاندھی سے متاثر ہوکر عاصم وقار نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی ایم کے اہم ترجمان عاصم وقار نے کانگریس جوائن کی ہے۔

وہیں اترپردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے کہا کہ ’’ہم اس دن کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔ آج ایک مضبوط شخصیت نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی برجستگی اور فصاحت کے ساتھ معاشرے کو پیغام دیتے ہیں۔ ان کی سوچ کانگریس کی سوچ سے ہم آہنگ ہے۔‘‘

عاصم وقار کا تعلق اترپردیش کی راجدھانی لکھنئو سے ہے۔ عاصم وقار مجلس اتحاد المسلمین کے قومی ترجمان تھے، ایم آئی ایم کے سیاسی نظریات کو مختلف ٹی وی چینلز پر بہتر طریقے سے پیش کرنے کیلئے انہیں پہچانا جاتا ہے۔ اس سے قبل ایک عرصے تک سماجوادی پارٹی سے منسلک رہے۔ آج 2 ستمبر کو انہوں نے نئی دہلی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔

اہم تکنیکی کاموں کیلئے شٹ ڈاؤن، پانی کا استعمال کفایت شعاری کرنے کی اپیل

​مالیگاؤں: ​مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق،دو اہم تکنیکی کی کاموں کی وجہ سے پورے شہر میں یہ شٹ ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔کارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 33 کے وی دہیوال فیڈر پر 33 کے وی سولار لائن کراسنگ کا کام طے پایا ہے، جس کی وجہ سے 5 اور 6 ستمبر کو گرنا پمپنگ اسٹیشن کی بجلی کی سپلائی بند رہے گی۔​امرِت فیز-2 ٹَیپنگ کیلئے آزاد نگر میں واقع نو تعمیر شدہ واٹر ٹینک کو پانی کی سپلائی کے لیے اولڈ آگرہ روڈ پر پرانے درے گاؤں (کھوکا ناکا) کے پاس 1200 ملی میٹر قطر کی مین پائپ لائن پر ٹَیپنگ کا کام کیا جائے گا۔اس وجہ سے بھی پانی سپلائی کا نظام متاثر ہوگا ۔کارپوریشن جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق ​5 ستمبر کا معطل شدہ پانی 7 ستمبر کو دیا جائے گا اور ​6 ستمبر کا معطل شدہ پانی 8 ستمبر کو دیا جائے گا۔​تیکنیکی کام مکمل ہونے کے بعد گرنا پمپنگ اسٹیشن سے معمول کے مطابق ایک دن ناغہ (ہر دوسرے دن) پانی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تیکنیکی ضرورت کو سمجھتے ہوئے پانی کا استعمال کفایت شعاری سے کریں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔


عوام کا بڑی گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی اور سڑکوں کی توسیع کا مطالبہ
مالیگاؤں: شہر کے بس اسٹینڈ کے قریب فلائی اوور پل کے نیچے اتوار کی صبح ایک دلخراش سڑک حادثہ پیش آیا، جس میں ایک 70 سالہ بزرگ خاتون کنٹینر گاڑی کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں کچھ دیر کے لیے افرا تفری اور غم کی کیفیت پیدا ہوگئی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق حادثہ صبح تقریباً 10 بجے بس اسٹینڈ کے قریب فلائی اوور کے نیچے پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بزرگ خاتون سڑک عبور کررہی تھیں کہ اسی دوران وہاں سے گزرنے والے ایک کنٹینر کی زد میں آگئیں۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ خاتون کو شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
سماجی کارکن شفیق اینٹی کرپشن کے مطابق حادثے کے فوری بعد پولیس اور امدادی عملہ موقع پر پہنچ گیا۔ پولیس نے جائے حادثہ کا جائزہ لیتے ہوئے ابتدائی تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ متوفیہ کے اہل خانہ کو واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔
حادثے کے بعد مقامی شہریوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کسمبا روڈ پر بڑی اور بھاری گاڑیوں کی آمدورفت سے حادثات کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے، اس لیے اس راستے پر بڑی گاڑیوں کی انٹری پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
عوام نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ آگرہ روڈ اور کسمبا روڈ کو فوری طور پر وسیع کیا جائے اور سڑکوں کے اطراف موجود تجاوزات (آتی کرمن) کو ہٹایا جائے تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم ہو اور مستقبل میں ایسے جان لیوا حادثات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔پولس کی جانب سے حادثے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والی بزرگ خاتون کی شناخت اور دیگر تفصیلات پولیس کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

Random Posts