آدتیہ ٹھاکرے نے باغیوں کو غدار اور بکاؤ قرار دیا، آئین میں تبدیلی کی منشا سے دیگر پارٹیوں کو توڑنے کا الزام
ممبئی: شیو سینا (یو بی ٹی) کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ نے پیر کے روز مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی زیر قیادت شیوسینا میں شمولیت اختیار کر لی۔ شامل ہونے والے ارکان میں اومراجے نمبالکر، ناگیش پاٹل اشٹیکار، سنجے دیشمکھ، سنجے جادھو، سنجے دینا پاٹل اور بھاؤ صاحب واکچورے شامل ہیں۔ یہ شمولیت ایکناتھ شندے، رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے، وزیر پرتاپ سرنائک اور دیگر سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں عمل میں آئی۔
مہاراشٹر کے وزیر اور شیوسینا کے رکن اسمبلی پرتاپ سرنائک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان چھ ارکانِ پارلیمنٹ کی شمولیت سے پارٹی کے ایم پیز کی تعداد 7 سے بڑھ کر 13 ہو جائے گی، جس سے شیوسینا کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
خبروں کے مطابق ان ارکان نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو شندے گروہ میں اپنی شمولیت کا خط بھی سونپ دیا ہے۔ پرتاپ سرنائک نے ’آپریشن ٹائیگر‘ کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن سال کے 365 دن جاری رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریے پر عمل کرنے والے یہ ارکان آج سہ پہر 3 بجے باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر سنجے راؤت کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے پہلے اراکین اسمبلی اور اب ارکان پارلیمنٹ پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔
سینا (یو بی ٹی) کا بغاوت کا الزام
دوسری جانب، باغی ارکان کی شمولیت پر شیوسینا (یو بی ٹی) نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں پارٹی کے اعتماد سے غداری قرار دیا ہے۔
شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "آج ہمارے ارکان پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو توڑا جا رہا ہے کیونکہ یہ لوگ باباصاحب امبیڈکر کے آئین کو بدلنا چاہتے ہیں۔ عوام نے 2024 میں انہیں روک دیا تھا اور انہیں صرف 240 سیٹیں ملی تھیں، اب وہ سیاسی جماعتوں کو توڑ کر اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔"
آدتیہ ٹھاکرے نے ان ارکان کو ’ڈرپوک اور بکاؤ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ادھو بالا صاحب ٹھاکرے اور مہاوکاس اگھاڑی کے نام پر منتخب ہوئے تھے، لیکن اب بی جے پی انہیں اپنے مفاد کے لیے شامل کر رہی ہے تاکہ لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل کر کے آئین میں تبدیلی کی جا سکے۔
بی جے پی پر تنقید
پارٹی میں تقسیم کے حوالے سے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح شیو سینا کو تقسیم کیا گیا، اسی طرح ٹی ایم سی اور عام آدمی پارٹی کو بھی توڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی ہے تو انصاف کی امید کی جاسکتی ہے۔





