کیا NCP کے فیصلے سے شرد پوار ناراض ہیں؟ کیا این سی پی اندرونی خلفشار کا شکار؟؟
مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (NCP) کی اہم میٹنگ سے قبل ہی سنیترہ پوار کے نائب وزیر اعلیٰ بننے کی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ پارٹی کے اندر فیصلہ تقریباً طے ہو چکا ہے اور محض باضابطہ اعلان باقی ہے۔
اس پیش رفت کے درمیان سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا اس فیصلے سے NCP کے سینئر رہنما اور پارٹی کے بانی شرد پوار ناخوش ہیں؟ ذرائع کے مطابق، سنیترہ پوار کے نام پر پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ ابھی ہونا باقی ہے، جسے اندرونی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، اجیت پوار کے انتقال کے بعد پارٹی اور حکومت دونوں سطحوں پر قیادت کے خلا کو پُر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں سنیترہ پوار کو نائب وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سونپنے پر غور کیا گیا اور مبینہ طور پر میٹنگ سے پہلے ہی اس پر اتفاق رائے قائم کر لیا گیا۔
دوسری جانب، شرد پوار کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر شرد پوار واقعی اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں تو آنے والے دنوں میں NCP کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔ فی الحال پارٹی کی آئندہ میٹنگ اور قیادت سے متعلق باضابطہ اعلان پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔





