TRENDING NOW

Recent News

News

گرین انرجی منصوبے کو منظوری "ہریت مہاراشٹر کمیشن(گرین مہاراشٹر کمیشن)" کے قیام کا اعلان

ممبئی: مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں ماحولیات کے تحفظ اور توانائی کے شعبے میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے 2047 تک 300 کروڑ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے "ہریت مہاراشٹر کمیشن(گرین مہاراشٹر کمیشن)" کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز منعقدہ کابینہ اجلاس میں تقریباً 12 ہزار 303 کروڑ روپے کے اخراجات والے منصوبے کو منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:........آئی پی ایل میچ کے دوران ریان پراگ کا ویپنگ کرتے ہوئے ویڈیو وائرلa.html

اس منصوبے کے تحت ریاست میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 2030 تک 17 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ شجرکاری کی ذمہ داری ہریت مہاراشٹر کمیشن پر ہوگی، جس کے چیئرمین وزیر اعلیٰ ہوں گے، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ نائب چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ وزیر جنگلات، وزیر ماحولیات، وزیر زراعت اور روزگار گارنٹی اسکیم کے وزیر شریک نائب چیئرمین ہوں گے۔

حکومت کی جانب سے شجرکاری کے لیے زمین کی دستیابی اور لینڈ بینک کی تیاری پر خاص توجہ دی جائے گی۔ فی الحال 29 ہزار مربع کلومیٹر زمین دستیاب ہے، جبکہ 300 کروڑ درخت لگانے کے لیے تقریباً 27 لاکھ ہیکٹر زمین درکار ہوگی۔

اسی اجلاس میں "Accelerating Green Energy and Storage Technologies Integration in Connected Grid" اسکیم اور اس کے ابتدائی پروجیکٹ رپورٹ کو بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد توانائی کے استعمال میں اضافہ، ترسیلی نظام کو مضبوط بنانا اور توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔

کابینہ نے ضلع رتناگیری کے ناچنے علاقے میں ایک نئے مرکزی ودیالیہ (کیندرِیہ ودیالیہ) کے قیام کے لیے ڈھائی ہیکٹر زمین فراہم کرنے کی بھی منظوری دی۔ اس سے کوکن خطے کے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں 85 نئے کیندرِیہ ودیالیہ قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں مہاراشٹر کے اکولا اور رتناگیری شامل ہیں۔

مزید برآں، ریاست میں غیر سرکاری تنظیموں کے زیر انتظام امدادی آشرم اسکولوں کے غیر تدریسی عملے کے لیے 12 اور 24 سال کی خدمات کے بعد ترقیاتی اسکیم نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جس سے 556 آشرم اسکولوں کے 7 ہزار 562 ملازمین مستفید ہوں گے۔

کابینہ نے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے نام سے لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس میں ایک چیئر قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ڈاکٹریٹ کے لیے اسکالرشپ فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد امبیڈکر کے نظریات کو عالمی سطح پر فروغ دینا اور سماجی انصاف، آئینی جمہوریت اور انسانی حقوق پر تحقیق کو بڑھانا ہے۔

بی سی سی آئی کی جانب سے نرمی برتنے کا امکان نہیں, ہوسکتی ہے کارروائی

نئی دہلی: آئی پی ایل میں پنجاب کنگز اور راجستھان رائلز کے میچ کے دوران راجستھان رائلز کے کپتان ریان پراگ لائیو براڈکاسٹ کے دوران ڈریسنگ روم میں ویپنگ (ای-سگریٹ استعمال) کرتے نظر آئے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب راجستھان رائلز ہدف کا تعاقب کر رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق 16ویں اوور کے دوران ریان پراگ اپنے ساتھی کھلاڑیوں دھرو جوریل اور یشسوی جیسوال کے ساتھ موجود تھے اور اسی دوران وہ مبینہ طور پر ویپنگ کرتے دکھائی دیے۔

قانونی طور پر اس معاملے نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ اسٹیڈیم اور ڈریسنگ روم میں سگریٹ نوشی ممنوع ہے، سوائے مخصوص مقامات کے۔ مزید یہ کہ بھارت میں ای-سگریٹ/ویپ پر Prohibition of Electronic Cigarettes Act (PECA) 2019 کے تحت پابندی عائد ہے، جس کے تحت اس کی تیاری، خرید و فروخت، درآمد، برآمد اور تشہیر سب غیر قانونی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ویپنگ صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں شامل اجزاء کے بارے میں واضح معلومات نہیں ہوتیں، خاص طور پر ایک پیشہ ور کھلاڑی کے لیے یہ زیادہ تشویش ناک ہے۔

یہ معاملہ اب مزید تحقیقات کا متقاضی ہے اور دیکھنا ہوگا کہ اس پر متعلقہ حکام کیا کارروائی کرتے ہیں۔ 'فرنچائز اور کپتان کو اپنی وجوہات تیار رکھنی ہوں گی کیونکہ اس طرح کے واقعے پر BCCI کی جانب سے نرمی برتنے کا امکان نہیں ہے۔'

​یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس سیزن میں RR (راجستھان رائلز) کسی تنازع میں گھری ہو۔ اس سے قبل، ان کے مینیجر نے ڈگ آؤٹ میں موبائل فون کا استعمال کر کے PMOA پروٹوکول کی خلاف ورزی کی تھی۔ وہ منظر بھی براہ راست نشریات کے دوران کیمرے میں قید ہو گیا تھا اور مکمل چھان بین کے بعد BCCI نے منیجر کو تنبیہ کی تھی اور جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔"

گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے فیصلے کی مخالفت کی, فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

دہلی میں 142 اساتذہ کو لے کر بڑا تنازع سامنے آیا ہے۔ ان اساتذہ پر الزام ہے کہ انہوں نے مردم شماری (Census) کے کام میں حصہ لینے سے انکار کیا۔ اس کے بعد پرانی دہلی کے ضلع مجسٹریٹ نے ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کو خط لکھ کر ان کی خدمات فوری طور پر ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:.......تربوز کھانے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد کی موت

ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 16 اپریل کو ہی اساتذہ کو اطلاع دے دی گئی تھی کہ مردم شماری کا کام لازمی ہے اور تعاون نہ کرنے پر کارروائی ہوگی۔ اس کے باوجود 142 اساتذہ نے ذمہ داری لینے سے انکار کیا، جسے انتظامیہ نے سنگین لاپروائی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسے معاملات کو نظرانداز کیا گیا تو دیگر ملازمین پر بھی غلط اثر پڑے گا۔ دہلی کے وزیر تعلیم آتشی نے کہا کہ مردم شماری ملک کے لیے نہایت اہم کام ہے اور سب کو اس میں تعاون کرنا چاہیے، تاہم خصوصی حالات میں معاملات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

دوسری جانب متعلقہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ملازمت ختم کرنے کا کوئی سرکاری نوٹس نہیں ملا۔ دہلی گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ اساتذہ سالانہ کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں جو 8 مئی کو ختم ہونا ہے، اور انہوں نے جان بوجھ کر کام سے انکار نہیں کیا۔

اساتذہ نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ 8 سال سے ان کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جبکہ موجودہ معاوضہ اتنا کم ہے کہ روزمرہ اخراجات بھی مشکل سے پورے ہوتے ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ کارروائی واپس لی جائے، باقاعدہ تنخواہ دی جائے اور مردم شماری ڈیوٹی کے لیے اضافی معاوضہ بھی دیا جائے۔

اساتذہ یونین کے مطابق سخت کارروائی سے ان کے معاشی حالات اور حوصلے دونوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

ایک ہی خاندان کے چار افراد کی پراسرار موت، تحقیقات جاری

ممبئی کے جنوبی علاقے پائیدھونی میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک مسلم خاندان کے چار افراد کی ہلاکت نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت عبداللہ دوکاڈیا (40)، ان کی اہلیہ نسرین دوکاڈیا (35) اور ان کی دو بیٹیاں عائشہ (16) اور زینب (13) کے طور پر ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:........راگھو چڈھا 6 راجیہ سبھا اراکین کے ساتھ بی جے پی میں شامل

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، 25 اپریل کی رات تقریباً 10:30 بجے خاندان نے رشتہ داروں کے ساتھ کھانا کھایا، جس میں کل نو افراد شریک تھے۔ بعد ازاں رشتہ دار اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ اطلاعات کے مطابق رات تقریباً 1:00 سے 1:30 بجے کے درمیان خاندان کے چاروں افراد نے تربوز کھایا، جس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔

مقامی خبروں کے مطابق اتوار کی صبح دونوں بیٹیاں بے ہوش پائی گئیں، جس کے بعد فوری طور پر انہیں قریبی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ صبح تقریباً 5:30 سے 6:00 بجے کے درمیان چاروں افراد میں قے اور دست جیسی علامات ظاہر ہوئیں۔ حالت بگڑنے پر انہیں سر جے جے اسپتال منتقل کیا گیا۔

علاج کے دوران کم عمر بیٹی زینب کی صبح تقریباً 10:15 بجے موت واقع ہوئی، جبکہ خاندان کے سربراہ عبداللہ دوکاڈیا رات تقریباً 10:30 بجے دم توڑ گئے۔ اس سے قبل اہلیہ اور بڑی بیٹی بھی انتقال کر چکی تھیں۔

پڑوسیوں نے صورتحال بگڑنے پر فوری طور پر پولیس اور ایمرجنسی خدمات کو اطلاع دی، تاہم ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود چاروں افراد کو بچایا نہ جا سکا۔

پولیس نے سر جے جے مارگ تھانے میں حادثاتی موت کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ لاشوں کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے جبکہ موت کی اصل وجہ کا تعین ہسٹوپیتھالوجی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

عام آدمی پارٹی کو بڑا جھٹکا، پارٹی بنیادی اقدار سے ہٹ کر ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے: راگھو چڈھا کا الزام

نئی دہلی: اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی کو ایک بڑے سیاسی بحران کا سامنا ہے، جہاں پارٹی کے سینئر رہنما راگھو چڈھا نے چھ دیگر راجیہ سبھا اراکین کے ساتھ استعفیٰ دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس پیش رفت کو پارٹی کی پارلیمانی طاقت کیلئے ایک تاریخی دھچکہ قرار دیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:... عام آدمی پارٹی میں اندرونی خلفشار میں شدت، راگھو چڈھا پر مودی اور بی جے پی مخالف پوسٹس ڈیلیٹ کرنے کا الزام-Aadmi-Party-thereportersview.com-Political-News-National-India.html

اطلاعات کے مطابق راگھو چڈھا کے ساتھ مستعفی ہونے والے اراکین میں سندیپ پاٹھک، سواتی مالیوال، ہربھجن سنگھ، وکرم ساہنی، اشوک مِتّل اور راجندر گپتا شامل ہیں۔ ان تمام رہنماؤں کی اجتماعی علیحدگی نے راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کی پوزیشن کو شدید کمزور کر دیا ہے۔

راگھو چڈھا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ محسوس کررہے تھے کہ "صحیح آدمی، غلط پارٹی میں" ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی اپنی بنیادی اقدار سے ہٹ کر ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے، جو ان کے اصولوں کے خلاف ہے۔

گزشتہ برسوں میں مسلسل انحرافات

عام آدمی پارٹی کی تشکیل کے بعد سے ہی اسے وقتاً فوقتاً اہم رہنماؤں کی علیحدگی کا سامنا رہا ہے، جس نے پارٹی کی داخلی ساخت اور نظریاتی شناخت پر اثر ڈالا ہے۔

دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی میں اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب کئی اراکین اسمبلی جیسے نریش یادو، بھاونا گور اور راجیش رشی نے ٹکٹ نہ ملنے پر استعفیٰ دے دیا۔

اسی دوران نومبر 2024 میں وزیر ٹرانسپورٹ و داخلہ کیلاش گہلوت نے بھی پارٹی چھوڑ دی، جبکہ سماجی بہبود کے وزیر راج کمار آنند نے بدعنوانی اور نمائندگی کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دیا۔

کمار وشواس، الکا لامبا، ایچ ایس پھولکا، آشوتوش اور آشیش کھیتان جیسے سرکردہ رہنما پارٹی سے الگ ہوگئے، جس سے پارٹی کی عوامی شبیہ متاثر ہوئی۔

پارٹی کی ابتدائی کامیابی کے بعد یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کو نکال دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے "سوراج انڈیا" کے نام سے نئی سیاسی جماعت قائم کی۔ اسی عرصے میں شازیہ علمی نے بھی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق راگھو چڈھا اور دیگر اراکین کی حالیہ علیحدگی نہ صرف عام آدمی پارٹی کیلئے ایک بڑا تنظیمی نقصان ہے بلکہ یہ پارٹی کے اندرونی اختلافات اور نظریاتی بحران کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

Random Posts