TRENDING NOW

Recent News

News

مالیگاؤں پرانت آفس سے مکمل رپورٹ ممبئی طلب کی جائے گی، ریاستی الیکشن کمیشن کا مستقیم ڈگنیٹی کو تیقن 

​مالیگاؤں : شہر مالیگاؤں میں سرکاری الیکٹورل رجسٹریشن (SIR) کے کام کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے مبینہ طور پر خارج کیے جانے کا ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ایسے تقریباً 300 افراد جن کا گزشتہ اپریل میں باقاعدہ میپنگ کا عمل مکمل کروایا گیا تھا اور جنہوں نے جنوری میں منعقدہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال بھی کیا تھا، اب نئی فہرستوں اور انومریشن فارم کی لسٹ سے ان کے نام غائب پائے گئے ہیں اور وہ ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہو چکے ہیں۔اس ضمن میں سماجوادی پارٹی کے مقامی رہنما مستقیم ڈگنٹی نے اس ناانصافی کے خلاف فوری طور پر آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سب سے پہلے مقامی سطح پر پرانت آفیسر سے مالیگاؤں میں ایک تحریری شکایت درج کروائی تھی، تاہم وہاں سے کوئی مثبت ردعمل یا مسئلہ کا تسلی بخش حل نہ نکلنے پر انہوں نے سیدھے صوبائی دارالحکومت ممبئی کا رخ کیا اور الیکشن منسٹری پہنچ کر اعلیٰ حکام کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا۔

​ممبئی کے دورے کے دوران چیف الیکشن آفیسر سے مصروفیات کے باعث ملاقات ممکن نہ ہو سکی، جس کے بعد مستقیم ڈگنٹی نے ڈپٹی الیکشن آفیسر منوہر پاریکر  سے تفصیلی ملاقات کی اور انہیں صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ملاقات کے آغاز میں ڈپٹی الیکشن آفیسر نے معاملے کو عام ووٹرز کا انفرادی مسئلہ سمجھا، لیکن جب مستقیم ڈگنٹی نے اپریل کی میپنگ اور جنوری کے بلدیاتی انتخابات میں ان ووٹرز کی شرکت کے ٹھوس شواہد اور ریکارڈز پیش کیے، تو انہوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹس محض تین ماہ کے قلیل عرصے میں تکنیکی یا قانونی طور پر نہیں کاٹے جا سکتے۔ ڈپٹی الیکشن آفیسر نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے میں مالیگاؤں کے مقامی حکام سے فوری رپورٹ طلب کر رہے ہیں اور رپورٹ موصول ہونے کے بعد اگلا سخت اقدام کیا جائے گا۔

​دوسری جانب سماجوادی پارٹی کے رہنما مستقیم ڈگنٹی نے انتظامیہ کو دو ٹوک الفاظ میں انتباہ دیا ہے کہ اگر 20 اپریل تک میپنگ کروائے گئے تمام متاثرہ ووٹرز اور کارپوریشن انتخابات میں ووٹ ڈالنے والوں کو فوری طور پر انتخابی انومریشن فارم فراہم کر کے ان کے نام بحال نہیں کیے گئے، تو 21 جولائی کو مالیگاؤں پرانت کچہری کے سامنے ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ سہیوگ اندولن کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سماجوادی پارٹی شہر کے عوام کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی پر کسی بھی صورت خاموش نہیں بیٹھے گی اور عوامی حقوق کی بحالی تک تحریک جاری رکھے گی۔اس موقع پر انصاری عبد الرحمن بھی موجود تھے ۔​یہ پورا واقعہ موجودہ انتخابی عمل کی شفافیت، انتظامیہ کی کارکردگی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اب تمام حلقوں کی نظریں الیکشن کمیشن کی جانب سے طلب کی گئی رپورٹ اور اس پر ہونے والی اگلی کارروائی پر ٹکی ہوئی ہیں۔

غفلت چھوڑو، بیدار ہو جاؤ، اپنے کل کو محفوظ بناؤ: آصف شیخ رشید

​مالیگاؤں: مالیگاؤں شہر کی معروف سیاسی و سماجی تنظیم اسلام (I.S.L.A.M) پارٹی مالیگاؤں کی جانب سے عوام کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم اور منظم عوامی بیداری مہم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسلام پارٹی کے بانی و قائد آصف شیخ رشید کی سرپرستی میں آنے والی 17 جولائی سے پورے شہر میں بڑے پیمانے پر "ایس آئی آر (SIR) بیداری مہم" کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے اسلام پارٹی نے عوامی بیداری مہم (SIR) کے تحت کارنر میٹنگز کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ مہم کا مقصد عوام میں شعور اجاگر کرنا اور ان کے حقوق کی آواز بلند کرنا ہے۔آصف شیخ رشید بانی و قائد اسلام پارٹی ان میٹنگز سے خطاب کریں گے۔میٹنگ کی تفصیلات کے مطابق 17 جولائی جمعہ شام 7 بجے گلشیر نگر، مین روڈ، گلی نمبر 5، رات 8 بجے شبیر نگر، سیلانی چوک اور رات 9 بجے آزاد نگر، جیلانی چوک میں آصف شیخ رشید میٹنگ سے خطاب کریں گے جبکہ 18 جولائی بروز سنیچر کوشام 7 بجے: گاندھی نگر، تراب ممبر کے مکان کے پاس،

رات 8 بجے: مدنی نگر، چاند پٹیل کرانہ دکان کے پاس اور رات 9 بجے: نظامیہ مسجد، 60 فٹی روڈ کی میٹنگ میں بھی آصف شیخ مقرر خصوصی کے طور پر خطاب کرینگے ۔اسلام پارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بڑی تعداد میں شرکت کر کے مہم کو کامیاب بنائیں۔ یہ میٹنگز ایس آئی آر بیداری کیلئے عوام سے براہ راست رابطہ قائم کرنے کے لیے منعقد کی جا رہی ہیں۔

 اس مہم کا بنیادی مقصد عوام کو غفلت سے نکال کر اپنے حقوق کے تئیں بیدار کرنا ہے، کیونکہ مستقبل کے کسی بھی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے آج ہی بیدار ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔​اس مہم کو شہر کے کونے کونے اور گھر گھر تک پہنچانے کے لیے اسلام پارٹی کی جانب سے بڑے پیمانے پر تشہیری تیاریاں کی گئی ہیں۔ قائدِ پارٹی آصف شیخ رشید کی زیرِ سرپرستی عوامی بیداری کے لیے خصوصی ٹی شرٹس تیار کی گئی ہیں، جبکہ شہر بھر میں تشہیر کے لیے رکشا بینر اور پوسٹرز بھی چھپوائے گئے ہیں۔ ان تشہیری وسائل کا مقصد عوام کو متحرک کرنا ہے تاکہ کوئی بھی شہری معلومات کے فقدان کی وجہ سے اس اہم ایس آئی آر مہم سے محروم نہ رہ جائے۔

​اسلام پارٹی نے مالیگاؤں کی عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ عوام جلد سے جلد اپنا ایس آئی آر (SIR) فارم حاصل کریں، اسے مکمل اور درست معلومات کے ساتھ پُر کریں اور بغیر کسی تاخیر کے اپنے متعلقہ بی ایل او (BLO) کے پاس جمع کروائیں۔آصف شیخ کا کہنا ہے کہ "غفلت چھوڑو، بیدار ہو جاؤ؛ اپنے کل کو محفوظ بناؤ" کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عوام کا تعاون بے حد ضروری ہے، تاکہ سب کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔

جنم داخلہ معاملہ صرف چند افراد کا نہیں بلکہ پورے مالیگاؤں کی عزت و ساکھ کا مسئلہ ہے :مستقیم ڈگنیٹی 

مالیگاؤں : مالیگاؤں شہر کے "جنم داخلہ" (برتھ سرٹیفکیٹ) مبینہ معاملہ کے مقدمات میں آج عدالت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے تین ایجنٹوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ آج معزز جج اشون بھوبے صاحب کی عدالت کے روبرو ان مقدمات کی تفصیلی سماعت ہوئی۔ دفاعی ​وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے تین مبینہ ایجنٹس صغیر ماسٹر، عتیق منا اور فیصل کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل کے کیسز میں بھی متعدد ایجنٹس کو عدالت کی جانب سے ضمانت مل چکی ہے۔اس طرح کی تفصیلات ممبئی ہائی کورٹ سے مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کے معاون کنوینر مستقیم ڈگنیٹی نے نمائندہ بیباک کو دی ۔انہوں نے بتایا کہ ​غزالہ پروین اور دیپالی دھارنکر کی درخواست کیلئے بھی ہماری کوشش جاری ہے، ​عدالتی کارروائی کے مطابق، اب سب کی نظریں خواتین ملزمان پر مرکوز ہیں۔ غزالہ پروین اور دیپالی دھارنکر کی ضمانت کی درخواستوں پر اب اگلی سماعت 22 جولائی کو شام 5:00 بجے ہوگی۔ مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کی جانب سے قوی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ انسانی ہمدردی اور قانونی بنیادوں پر انہیں بھی جلد ہی ضمانت مل جائے گی۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی آصف شیخ کی سرپرستی میں قانونی امداد فراہم کررہی ہے ۔

​انہوں نے مزید کہا کہ، اس مقدمے سے جڑے سرکاری ملازمین بشمول عبد التواب شیخ ،دھارنکر، مہاجن اور امبورے کے کیسز کی الگ الگ سماعت 27 جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ​متاثرین کی قانونی امداد کرنے والی مائنارٹی ڈیفنس کمیٹی آصف شیخ کی سربراہی میں اس معاملے میں اول روز سے متحرک ہے اور ​اب تک ہائی کورٹ کے ذریعے 8 افراد کی رہائی عمل میں آ چکی ہے۔

مائناریٹی ​کمیٹی غزالہ پروین، عبدالتواب اور دیگر تمام بے قصور افراد کے مقدمات کی پیروی پوری مضبوطی سے کر رہی ہے۔​کمیٹی کے سرگرم وکیل سدھانشو مہندر  نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ​"غزالہ پروین کے معصوم بچہ بھی آج عدالت میں موجود تھا، جن کی حالتِ زار کو دیکھتے ہوئے ہم امید کر رہے ہیں کہ اگلی سماعت پر عدالت انہیں فوری ضمانت کی راحت فراہم کرے گی۔"۔

 ​مائنارٹی ڈیفنس کمیٹی اور کارپوریٹر مستقیم ڈگنیٹی نے اس پورے معاملے کو شہر کی ساکھ پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ

 ابتدائی طور پر اس کیس کو بنگلہ دیشی اور روہنگیا دراندازوں سے جوڑ کر شہر کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کی رپورٹ کو اب تک عام نہ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ پولیس کو شہر میں کسی بھی قسم کے بنگلہ دیشی یا روہنگیا باشندے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔کارپوریشن اور تحصیل انتظامیہ اور کلرکوں کی معمولی و تکنیکی غلطیوں کی سزا عام اور غریب شہریوں کو بھگتنی پڑ رہی ہے، جنہیں سنگین دفعات کے تحت جیلوں میں بند کیا گیا۔​مستقیم ڈگنیٹی نے آخر میں عزم ظاہر کیا کہ کمیٹی انصاف کی یہ جنگ آخری دم تک جاری رکھے گی اور ان شاء اللہ بہت جلد تمام بے گناہ شہری اس بحران سے سرخرو ہو کر باہر نکلیں گے۔ یہ مقدمات صرف چند افراد کے نہیں بلکہ پورے مالیگاؤں شہر کی عزت و ساکھ کا مسئلہ ہیں۔

حفظانِ صحت اور غذائی تحفظ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی پر شالیمار، نور محمدی اور رحمانیہ ریسٹورنٹ کے خلاف کارروائی

ممبئی: مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے جنوبی ممبئی کے تین معروف ہوٹلوں کے فوڈ لائسنس معطل کر دیے ہیں۔ معائنوں کے دوران حفظانِ صحت اور غذائی تحفظ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جنہیں عوامی صحت کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا۔

یہ کارروائی گریٹر ممبئی ڈویژن کی جانب سے کیے گئے سلسلہ وار معائنوں کے بعد بھنڈی بازار کے شالیمار ہاسپیٹیلٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، نور محمدی ہوٹل اور عمرکھاڑی کے رحمانیہ ریسٹورنٹ کے خلاف فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (لائسنسنگ اینڈ رجسٹریشن آف فوڈ بزنسز) ریگولیشنز، 2011 کے تحت کارروائی کی گئی۔

ایف ڈی اے کے مطابق، شالیمار ہاسپیٹیلٹی کا لائسنس منگل کو اس وقت معطل کیا گیا جب اپریل میں کیے گئے معائنے میں نشاندہی کی گئی 25 بڑی خامیاں اصلاحی نوٹس جاری ہونے کے باوجود دور نہیں کی گئیں۔

13 جولائی کو ہونے والے دوبارہ معائنے میں باورچی خانے کا گیلا اور پھسلن والا فرش، خام مال کی خریداری کا ریکارڈ نہ ہونا، پینے کے پانی کے معیار کی جانچ کی رپورٹ کا فقدان، کھانے کے تیل کے معیار سے متعلق ریکارڈ کی عدم موجودگی، سبزی خور اور گوشت پر مبنی غذاؤں کی مناسب علیحدگی نہ ہونا، اور کیڑوں سے محفوظ جالیوں کے بغیر کھلی کھڑکیاں پائی گئیں۔

نور محمدی ہوٹل کا لائسنس بھی فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔ معائنے کے دوران باورچی خانے کے فرش پر چکنائی کی موٹی تہہ، کھلی کھڑکیوں کے باعث مکھیوں، کیڑوں اور یہاں تک کہ کوؤں کا کچن تک پہنچنا، دیواروں اور چھتوں پر اکھڑا ہوا رنگ اور چکنائی، خام مال کی غیر صحت بخش ذخیرہ اندوزی، سپلائرز کا ریکارڈ نہ ہونا، پرانے اور غیر صحت بخش برتنوں کا استعمال، پینے کے پانی کی جانچ کے ریکارڈ کا فقدان اور کیڑوں پر قابو پانے کے ناکافی انتظامات پائے گئے۔

رحمانیہ ریسٹورنٹ کا لائسنس بھی فوری طور پر معطل کر دیا گیا، جہاں خوراک، کیمیکلز اور پیکنگ میٹریل کی غیر مناسب ذخیرہ اندوزی، کیڑوں سے تحفظ کے ناقص انتظامات، زنگ آلود اور غیر معیاری آلات، کچن میں اکھڑا ہوا رنگ اور پلستر، لازمی فوڈ ٹیسٹنگ ریکارڈ کی عدم موجودگی اور پینے کے پانی کے معیار کی جانچ نہ کیے جانے جیسے مسائل سامنے آئے۔

ایف ڈی اے نے کہا کہ یہ کارروائی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (لائسنسنگ اینڈ رجسٹریشن آف فوڈ بزنسز) ریگولیشنز، 2011 کے شیڈول IV کے حصہ دوم کے تحت کی گئی، جس میں فوڈ بزنس آپریٹرز کے لیے حفظانِ صحت اور صفائی کے معیارات مقرر کیے گئے ہیں۔

ایف ڈی اے نے واضح کیا کہ غذائی تحفظ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے یا صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈالنے والے فوڈ بزنس آپریٹرز کے خلاف سخت کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا، اور تمام لائسنس یافتہ اداروں کے لیے حفظانِ صحت اور صفائی کے اصولوں پر عمل درآمد لازمی ہے۔

گوری اسپرٹ سے تیسری شادی پر نتیش رانے نے اٹھایا سوال کیا اسے لو جہاد سمجھا جائے؟؟سوشل میڈیا پر چھڑی بحث

بالی ووڈ اداکار عامر خان کی غیر مسلم خواتین سے شادیوں، خصوصاً گوری اسپرٹ سے حالیہ شادی سے متعلق سوشل میڈیا پر دوبارہ بحث چھڑ گئی، جب بعض سیاست دانوں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس معاملے پر سوالات اٹھائے۔

ریڈف (Rediff) سے گفتگو کرتے ہوئے عامر خان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "نہ گوری، نہ کرن اور نہ ہی رینا نے اپنا مذہب تبدیل کیا، کیونکہ ہماری شادیاں سول میرج تھیں۔ گوری ہندو بھی نہیں بلکہ عیسائی ہیں، اور وہ بھی باقاعدہ باعمل عیسائی نہیں ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ زندگی مزید مزاحیہ ہوتی جا رہی ہے۔"

عامر خان کے مطابق ان کے تمام رشتے مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ باہمی احترام اور ذاتی پسند پر قائم رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے خاندان کے بارے میں بھی کہا کہ بین المذاہب شادیاں ان کے خاندان میں ہمیشہ سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق، "ہمارا خاندان بہت وسیع النظر (Inclusive) ہے۔ میری دونوں بہنوں کی شادیاں ہندو افراد سے ہوئی ہیں، میری بیٹی بھی ایک ہندو سے شادی کر چکی ہے، جبکہ میرے کزن منصور کی شادی ایک عیسائی خاتون سے ہوئی ہے۔"

دوسری جانب، اطلاعات کے مطابق اتر پردیش کے مسلم پرسنل دارالافتاء کے شاہی چیف مفتی مولانا چودھری ابراہیم حسین نے عامر خان کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔ مفتی چودھری ابراہیم کے مطابق کوئی مسلمان مرد غیر مسلم خاتون سے اس وقت تک شادی نہیں کر سکتا جب تک وہ اسلام قبول نہ کر لے۔

دوسری طرف بی جے پی رہنما اور مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے نے بھی عامر خان کی شادی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب مشہور شخصیات ایسے ذاتی فیصلے کرتی ہیں تو ہندو سماج کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عامر خان کی تازہ شادی کو "لو جہاد" کی مثال سمجھا جانا چاہیے؟

واضح رہے کہ عامر خان نے 5 جولائی کو ممبئی کے باندرہ علاقے میں واقع اپنی پالی ہِل رہائش گاہ پر ایک سادہ تقریب میں ویلنیس اور بیوٹی انڈسٹری سے وابستہ گوری اسپرٹ سے شادی کی۔

اس سے قبل عامر خان کی پہلی شادی رینا دتہ سے 1986 میں ہوئی تھی، جو 2002 میں ختم ہوگئی۔ بعد ازاں انہوں نے 2005 میں فلم ساز کرن راؤ سے شادی کی، تاہم 2021 میں دونوں نے علیحدگی کا اعلان کیا۔ اس کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی مشترکہ پرورش کرتے ہوئے خوشگوار تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

Random Posts