TRENDING NOW

Recent News

News

سماجوادی پارٹی کے وفد کی شہر اے ایس پی سورج گنجال سے ملاقات، متنازع زمین کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی سخت مذمت

مالیگاؤں : سماجوادی پارٹی کے گٹ نیتا مستقیم ڈگنیٹی کی قیادت میں ایک وفد نے شہر کے اے ایس پی سے ملاقات کرکے حالیہ احتجاج کے دوران لگائے گئے اشتعال انگیز نعروں، نفرت انگیز بیانات اور عوامی جذبات کو مجروح کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وفد میں حاجی اطہر حسین اشرفی یوتھ ونگ کے صدر راحیل حنیف، نائب صدر فیضان رجو، وسیم شیخ، طارق مچھلی والے، ابواللیث انصاری، عارف عطار، اعجاز پاپے، حسین خان، معین اشرف، سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ متنازع زمین کے معاملے کو دانستہ طور پر فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زمین کے ریزرویشن سے متعلق تمام کارروائیاں سرکاری سطح پر قانونی طریقۂ کار کے مطابق انجام دی گئی ہیں۔ اس پورے معاملے میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا ناانصافی ہے۔ اگر کسی مرحلے پر بے ضابطگی ہوئی ہے تو حکومت غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔

انہوں نے مالیگاؤں کے عوام، خصوصاً مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ جب تک معاملہ مکمل طور پر واضح نہ ہو، متنازع زمینوں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں، کیونکہ کسی بھی آئندہ قانونی تبدیلی کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان عام اور غریب لوگوں کو اٹھانا پڑے گا۔

مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ گزشتہ روز کے احتجاج میں بعض افراد نے قانون اور آئین کی حدود کو پامال کرتے ہوئے اشتعال انگیز نعرے لگائے، گالم گلوچ کی اور ایسی زبان استعمال کی جس سے شہریوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص امن و امان خراب کرنے کی جرأت نہ کرے۔

انہوں نے بتایا کہ شہر اےایس پی کو پیش کیے گئے مکتوب میں انہی نکات کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ پولیس حکام نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے میں مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے، جس پر وفد نے اطمینان کا اظہار کیا۔

مستقیم ڈگنیٹی نے اردو زبان کے حوالے سے کیے گئے اعتراضات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اردو ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور تحریکِ آزادی کی اہم زبان ہے۔ اسے کسی ایک مذہب یا ملک سے جوڑنا نہ صرف تاریخی حقائق سے انکار ہے بلکہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بھی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی ہر اس کوشش کی مخالفت کرتی رہے گی جو شہر کے امن، بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض کسی قانونی یا انتظامی عمل پر نہیں بلکہ احتجاج کے دوران اختیار کیے گئے اشتعال انگیز طرزِ عمل، نفرت انگیز نعروں اور عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی زبان پر ہے، جس کے خلاف سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

الیکٹرک پول میں مبینہ کرنٹ دوڑنے سے پیش آیا سانحہ، شہریوں کا بجلی محکمہ کے خلاف کارروائی اور اہل خانہ کو معاوضہ دینے کا مطالبہ

مالیگاؤں (اسٹاف رپورٹر) گلشن معصوم، نئی تہذیب ہائی اسکول سے متصل بستی میں پیش آئے ایک افسوسناک حادثے میں 13 سالہ معصوم بچے محمد مزمل محمد آصف کی کرنٹ لگنے سے موت واقع ہوگئی، جس کے بعد علاقے میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، متوفی مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد لوہے کی سیڑھی کے ذریعے اپنے مکان پر جا رہا تھا۔ اسی دوران اس کا ہاتھ قریب موجود الیکٹرک پول سے چھو گیا، جس میں مبینہ طور پر کرنٹ دوڑ رہا تھا، اور وہ شدید کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی کارپوریٹر ڈاکٹر خالد پرویز، سماجی کارکن شفیق اینٹی کرپشن اور دیگر مقامی افراد موقع پر پہنچ گئے۔ واقعہ کے بعد شہریوں نے بجلی محکمہ کی مبینہ لاپرواہی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور متوفی کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس موقع پر کارپوریٹر ڈاکٹر خالد پرویز نے بتایا کہ متوفی بچے کے مکان کے سامنے سڑک کافی خستہ حال ہے، جہاں بارش کا پانی جمع تھا۔ بچہ اسی مقام سے لوہے کی سیڑھی کے ذریعے اپنے مکان پر جا رہا تھا کہ اچانک اس کا ہاتھ الیکٹرک پول سے ٹکرا گیا اور کرنٹ لگنے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ سماجی کارکن شفیق اینٹی کرپشن نے واقعے کی تفصیلات دیتے ہوئے بجلی محکمہ سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں موجود خطرناک برقی کھمبوں اور تاروں کی فوری مرمت کی جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

ادھر پوار واڑی پولیس اسٹیشن کے اہلکار موقع پر پہنچ کر پنچنامہ کی کارروائی انجام دے رہے ہیں۔ تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد نعش کو تدفین کے لیے اہل خانہ کے سپرد کر دیا جائے گا۔

ایک اندازے کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران مالیگاؤں میں کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں 10 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ مسلسل احتجاج اور عوامی مطالبات کے باوجود ایسے حادثات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ شہریوں نے بجلی محکمہ کی مبینہ غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں برقی کھمبوں، تاروں اور ٹرانسفارمروں کا فوری معائنہ اور مرمت کی جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

​میئر و کمشنر کی ہدایت پر کارپوریشن کے اعلی افسران و کارپوریٹرس کا دورہ، خواتین کیلئے باپردہ انتظامات، ایل ای ڈی اسکرین کا بھی نظم 

​مالیگاؤں : 23 جون : عالمی تحریک سنی دعوتِ اسلامی، شاخ مالیگاؤں کے زیرِ اہتمام ہر سال کی طرح امسال بھی ذکرِ تاجدارِ کربلا کے عظیم الشان اور روح پرور اجتماعات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ وارث علی چوک اور آزاد نگر جیلانی چوک میں کامیاب اجتماعات کے انعقاد کے بعد، اب کل بروز بدھ کو اس سلسلے کا اگلا بڑا اجتماع نور باغ چوک میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس کے بعد جمعرات اور جمعہ کو اے ٹی ٹی ہائی اسکول گراؤنڈ پر آخری اجتماعات کے ساتھ یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچے گا۔

​ان اجتماعات میں ملک کے مایہ ناز اور شعلہ بیاں خطیب حضرت مولانا سید امین القادری قبلہ کا سلسلہ وار رقت انگیز اور علمی خطاب جاری ہے، جسے سننے کے لیے شہر بھر سے ہزاروں کی تعداد میں عاشقانِ رسول شرکت کر رہے ہیں۔اس طرح کی تفصیلات آج نور باغ چوک میں دورہ کے دوران نور باغ گروپ کے ذمہ داران میں رضوان میمن نے دی، انہوں نے بتایا کہ نور  باغ چوک میں ہونے والے اجتماع کی اہمیت کے پیشِ نظر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے افسران اور مختلف محکموں کے ذمہ داران نے اجتماع گاہ اور گرد و نواح کا تفصیلی دورہ کیا۔ میئر نسرین حاجی خالد شیخ رشید اور کمشنر کی خصوصی ہدایت پر کارپوریٹر شکیل بیگ، فقیر محمد، عرفان عابد علی، پربھاگ آفیسر عرفان تابانی، محکمہءِ صفائی کے سربراہ اقبال جان محمد، اور لائٹ و تجاوزات (اتیکرمن) ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام نے موقع پر پہنچ کر تیاریوں کا جائزہ لیا۔​حکام نے یقین دلایا ہے کہ اجتماع سے قبل دو دنوں کے اندر نور باغ کے پورے علاقے کو ہنگامی طور پر مکمل صاف کر دیا جائے گا۔​انہوں نے بتایا کہ اجتماع کے پیش نظر پورے علاقے کی گہرائی سے صفائی، جھاڑو مارنا اور کچرے کی فوری نکاسی۔​گٹروں کی صفائی اور تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا تاکہ آمد و رفت میں رکاوٹ نہ ہو۔اسی طرح ​اسٹریٹ لائٹس اور بجلی کے نظام کو چاک و چوبند کرنا۔​بارش اور وبائی امراض کے پیشِ نظر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ (فوارنی) اور سڑکوں کے دونوں جانب چونا/پاؤڈر کا بھی چھڑکاؤ کیا جائے گا۔​سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے آج شام پولس ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران بھی نور باغ چوک پہنچ کر حفاظتی انتظامات اور پولس بندوبست کا جائزہ لیں گے۔​رضوان میمن گروپ نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لیے خصوصی باپردہ انتظام کیا گیا ہے، ایس ڈی آئی نور باغ گروپ کے متحرک ذمہ داران میں رضوان میمن، اقبال بھائی بکھار والے، شفیق انصاری اور ان کے تمام رفقاء گزشتہ کئی دنوں سے گھر گھر جا کر دعوت نامے تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے شہر کے برادرانِ اسلام اور خواتین سے کثیر تعداد میں اس دینی بزم میں شرکت کی مخلصانہ اپیل کی ہے۔

​شرکاء کی سہولت کے لئے  خواتین اسلام کے لیے باغبان جماعت خانہ کے گراؤنڈ پر مکمل باپردہ نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان کے لیے بڑی ایل ای ڈی (LED) اسکرین لگائی جا رہی ہیں تاکہ وہ پروگرام کو باآسانی دیکھ اور سن سکیں۔اسی طرح علماءِ کرام اور مشائخ عظام کے لیے ایک وسیع و عریض اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے۔ پنڈال میں شرکاء کے بیٹھنے کے لیے صوفے، کرسیاں اور فرش کا بہترین انتظام رہے گا۔اس کے علاوہ گرمی اور موسم کی مناسبت سے زائرین کے لیے ٹھنڈے پانی اور شربت کی سبیلیں لگائی جا رہی ہیں۔پروگرام بروز بدھ کو بعد نمازِ مغرب شروع ہوگا، جس میں مولانا سید امین القادری صاحب کے مرکزی خطاب سے قبل دیگر علمائے کرام کے بیانات ہوں گے۔اور پروگرام رات ٹھیک دس بجے اختتام پذیر ہوگا۔​نمازِ عشاء: اجتماع کے فوری بعد رات دس بجے نمازِ عشاء باجماعت قاضی شرف الدین ہال میں ادا کی جائے گی۔اس پروگرام کی نظامت مسجد یارسول اللہ کے امام حافظ غفران اشرفی انجام دینگے۔​شہر بھر سے آنے والے شرکاء کے لیے نور باغ چوک کی طرف آنے والے تمام راستوں کو صاف اور کشادہ اور روشن کیا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔

بجلی کے تاروں، ٹرانسفارمر کو درست کرنے اور متوفی کے ورثاء کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ 

​مالیگاؤں : 23 جون: رمضان پورہ، امین آباد علاقے میں بجلی کمپنی کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث ایک دردناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں ہائی وولٹیج بجلی کے تار سے کرنٹ لگنے کے باعث ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی کی شناخت مزمل حسین عبدالقدوس کے نام سے ہوئی ہے جو کہ پیشے سے ایک سماجی کارکن (سوشل ورکر) تھے۔

​تفصیلات کے مطابق، مزمل حسین کے پڑوس میں ان کی پھوپھی کا انتقال ہو گیا تھا، جس کے بعد میت کی تدفین اور تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے بارش سے بچاؤ کی خاطر پنڈال یا پردہ لگانے کا انتظام کیا جا رہا تھا۔ اس دوران جب مزمل نے لوہے کا پائپ اٹھایا تو وہ اوپر سے گزرنے والی 11 ہزار یا 33 ہزار کلو واٹ کی ہائی وولٹیج لائن سے چھو گیا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید کرنٹ لگا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔اس حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں اور وارڈ کے نمائندوں میں کارپوریٹر صغیر احمد ،عبد الباقی، منا ممبر وغیرہ کا کہنا ہے کہ بجلی کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ علاقے میں بجلی کے تار انتہائی نیچے لٹک رہے ہیں اور ڈی پی (ٹرانسفارمر) بھی زمین سے محض 4 سے 5 فٹ کی اونچائی پر نصب ہے، جس سے ہر وقت معصوم بچوں اور راہگیروں کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے، عوام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی متعلقہ حکام بشمول انجینئرز اور افسران کو لٹکتے ہوئے تاروں کے حوالے سے متعدد بار تحریری اور زبانی شکایات کی گئیں اور موقع کا معائنہ بھی کروایا گیا، لیکن کمپنی کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس کا نتیجہ آج ایک قیمتی جان کے ضیاع کی صورت میں نکلا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والے مزمل اپنے گھر میں اکیلے کمانے والے تھے اور ان کے پسماندگان میں دو چھوٹی بیٹیاں شامل ہیں۔ مظاہرین اور ورثاء کا مطالبہ ہے کہ ​بجلی کمپنی کے اعلیٰ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے بات چیت کریں۔​متاثرہ خاندان کو فوری طور پر 25 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے کیونکہ متوفی کے علاوہ گھر کا کوئی کفیل نہیں ہے۔​لاپرواہی برتنے والے متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔​مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک معاوضے اور بجلی کے تاروں کو درست کرنے کا تحریری یقین دہانی نہیں کروائی جاتی، وہ میت کو نہیں اٹھائیں گے، اور اگر انتظامیہ نے زبردستی کی تو وہ میت کو پاور ہاؤس کے گیٹ پر لے جا کر دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پاور کمپنی کے آفیسران و پولس انتظامیہ بھی موقع پر پہنچ کر مسائل کو حال کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔

آدتیہ ٹھاکرے نے باغیوں کو غدار اور بکاؤ قرار دیا، آئین میں تبدیلی کی منشا سے دیگر پارٹیوں کو توڑنے کا الزام

ممبئی: شیو سینا (یو بی ٹی) کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ نے پیر کے روز مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی زیر قیادت  شیوسینا میں شمولیت اختیار کر لی۔ شامل ہونے والے ارکان میں اومراجے نمبالکر، ناگیش پاٹل اشٹیکار، سنجے دیشمکھ، سنجے جادھو، سنجے دینا پاٹل اور بھاؤ صاحب واکچورے شامل ہیں۔ یہ شمولیت ایکناتھ شندے، رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے، وزیر پرتاپ سرنائک اور دیگر سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں عمل میں آئی۔

مہاراشٹر کے وزیر اور شیوسینا کے رکن اسمبلی پرتاپ سرنائک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان چھ ارکانِ پارلیمنٹ کی شمولیت سے پارٹی کے ایم پیز کی تعداد 7 سے بڑھ کر 13 ہو جائے گی، جس سے شیوسینا کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

خبروں کے مطابق ان ارکان نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو شندے گروہ میں اپنی شمولیت کا خط بھی سونپ دیا ہے۔ پرتاپ سرنائک نے ’آپریشن ٹائیگر‘ کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن سال کے 365 دن جاری رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریے پر عمل کرنے والے یہ ارکان آج سہ پہر 3 بجے باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر سنجے راؤت کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے پہلے اراکین اسمبلی اور اب ارکان پارلیمنٹ پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

سینا (یو بی ٹی) کا بغاوت کا الزام

دوسری جانب، باغی ارکان کی شمولیت پر شیوسینا (یو بی ٹی) نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں پارٹی کے اعتماد سے غداری قرار دیا ہے۔

شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "آج ہمارے ارکان پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو توڑا جا رہا ہے کیونکہ یہ لوگ باباصاحب امبیڈکر کے آئین کو بدلنا چاہتے ہیں۔ عوام نے 2024 میں انہیں روک دیا تھا اور انہیں صرف 240 سیٹیں ملی تھیں، اب وہ سیاسی جماعتوں کو توڑ کر اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔"

آدتیہ ٹھاکرے نے ان ارکان کو ’ڈرپوک اور بکاؤ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ادھو بالا صاحب ٹھاکرے اور مہاوکاس اگھاڑی کے نام پر منتخب ہوئے تھے، لیکن اب بی جے پی انہیں اپنے مفاد کے لیے شامل کر رہی ہے تاکہ لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل کر کے آئین میں تبدیلی کی جا سکے۔

بی جے پی پر تنقید

پارٹی میں تقسیم کے حوالے سے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح شیو سینا کو تقسیم کیا گیا، اسی طرح ٹی ایم سی اور عام آدمی پارٹی کو بھی توڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی ہے تو انصاف کی امید کی جاسکتی ہے۔

Random Posts