TRENDING NOW

Recent News

News

 

شہریت کے ساتھ ساتھ کرکٹ کھیلنے کا بھی آفر... راشد خان کا اپنی کتاب میں سنسنی خیز خلاصہ

افغانستان کے اسٹار کرکٹ کھلاڑی راشد خان نے سنسنی خیز خلاصہ کرتے ہوئے ایک وقت ایسا تھا جب ہندوستان اور آسٹریلیا دونوں ممالک نے انہیں اپنے ملک کی شہریت دینے کی پیشکش کی تھی مگر انہوں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا.

یہ بھی پڑھیں:... عام آدمی پارٹی میں اندرونی خلفشار میں شدت، راگھو چڈھا پر مودی اور بی جے پی مخالف پوسٹس ڈیلیٹ کرنے کا الزام-Aadmi-Party-thereportersview.com-Political-News-National-India.html

افغانستان کے اسٹار گیند باز راشد خان نے اپنی کتاب "راشد خان-فرام اسٹریٹس ٹو اسٹارڈم" میں کہا کہ انہیں ہندوستان اور آسٹریلیا دونوں ممالک کی جانب سے شہریت دینے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا. مزکورہ کتاب میں راشد خان نے 2023 آئی پی ایل سیزن کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئی بتایا کہ ٹیم کے ایک افسر نے انہیں بتایا کہ ہندوستانی کرکٹ کی دنیا کی ایک عظیم ہستی ان سے ملنا چاہتے ہیں.

راشد نے مزید بتایا کہ "میں ان کے پاس گیا، ہماری بات چیت شروع ہوئی اور انہوں نے کہا کہ آپ کے ملک افغانستان کے حالات بہت خراب ہیں آپ ہندوستان آجاؤ اور یہیں رہو. ہم آپ کو ہندوستانی دستاویزات مہیا کروادیں گے. آپ یہیں رہو اور کرکٹ کھیلو. راشد نے کہا کہ میں ان کی بات سن کر حیران رہ گیا اور مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں اس کا کیا جواب دوں. لیکن میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ "آپ کا بہت بہت شکریہ... میں اپنے ملک افغانستان کیلئے کھیل رہا ہوں.

راشد نے یہ بھی بتایا کہ انہیں صرف ایک ملک سے اس طرح کی پیشکش نہیں ہوئی بلکہ آسٹریلیا اور ہندوستان دونوں ممالک نے انہیں شہریت اور کھیلنے کی پیشکش کی. لیکن میں نے کہا کہ اگر میں اپنے ملک کیلئے نہیں کھیلوں گا تو میں کسی اور ملک کیلئے بھی نہیں کھیلوں گا.

راشد خان نے 2018 کے ایک ایسے ہی واقعہ کو یاد کیا جب سن رائزرس حیدرآباد کیلئے کھیلتے تھے. کلکاتا نائٹ رائیڈرس کے خلاف میچ وننگ کارکردگی کے بعد ہندوستان میں سوشل میڈیا پر انہیں شہریت دینے کا مطالبہ کیا جانے لگا. جو راشد کے تئیں لوگوں کے عزت و احترام کو ظاہر کرتا ہے.

سوربھ بھاردواج اور بھگونت مان کی کھلی تنقید، چڈھا کی تردید، پارٹی میں بڑھتی خلیج پر سوالات اٹھنے لگے

ممبئی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے اندرونی حلقوں میں ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا ہے، جہاں سینئر قائدین نے راگھو چڈھا کی حالیہ سوشل میڈیا سرگرمیوں اور پارٹی موقف سے ان کی ہم آہنگی پر کھل کر سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔

मुंबई में बीएमसी का बड़ा अतिक्रमण हटाओ अभियान, फुटपाथ खाली कराने के लिए अवैध निर्माण और फेरीवालों पर सख्त कार्रवाई

یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب آپ کے سینئر لیڈر سوربھ بھاردواج نے الزام عائد کیا کہ راگھو چڈھا نے خاموشی کے ساتھ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کرنے والی پرانی پوسٹس حذف کر دی ہیں۔ بھاردواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چڈھا کی ٹائم لائن پر اب ایسی کوئی تنقیدی پوسٹس نظر نہیں آتیں۔

بھاردواج کے مطابق یہ تبدیلی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اقدام معلوم ہوتی ہے، جس کا مقصد چڈھا کی عوامی شبیہ کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ماضی کی بی جے پی مخالف پوسٹس غائب ہو چکی ہیں، وہیں مودی سے متعلق صرف چند مثبت حوالہ جات باقی رہ گئے ہیں، جو اس تبدیلی کو مزید مشکوک بناتے ہیں۔

یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں عام آدھی پارٹی نے راگھو چڈھا کو راجیہ سبھا میں اپنے نائب لیڈر کے عہدے سے ہٹا کر اشوک متل کو نائب لیڈر مقرر کیا ہے۔ اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں پہلے ہی چہ مگوئیاں پیدا کر دی تھیں، اور اب یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

پارٹی کے اندر اختلافات بھی کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اشارہ دیا کہ چڈھا ممکنہ طور پر پارٹی کے اجتماعی فیصلوں پر پوری طرح عمل نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی، بشمول پارلیمنٹ میں واک آؤٹ جیسے اقدامات، میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔

اسی طرح سوربھ بھاردواج نے بھی چڈھا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ مرکزی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں، جس سے پارٹی کے اندر تقسیم کا تاثر مضبوط ہو رہا ہے۔

دوسری جانب سینئر لیڈر آتشی نے بیرونی سیاسی دباؤ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اکثر اپوزیشن لیڈروں کو مختلف طریقوں سے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی براہ راست الزام عائد نہیں کیا۔

ان الزامات کے جواب میں راگھو چڈھا نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہو کر عوامی مسائل اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اپنے ناقدین کو چیلنج دیا کہ اگر ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو پیش کیا جائے۔

چیف الیکشن کمشنر کے مواخذے کی تحریک پر دستخط نہ کرنے کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے چڈھا نے کہا کہ اس کے لیے محدود دستخط درکار تھے اور پارٹی کے کئی دیگر اراکین نے بھی اس پر دستخط نہیں کیے تھے۔

اپنے جارحانہ لہجے میں چڈھا نے خود کو "زخمی شیر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ناقدین کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر پارٹی سربراہ اروند کجریوال کی جانب سے اب تک کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج اور اس تنازعے کے مستقبل کے حوالے سے سوالات برقرار ہیں۔

رمضان المبارک کے پیش نظر مساجد و مدارس کے اطراف نئی لائٹس کی تنصیب، صفائی و نکاسی آب کے احکامات جاری

مالیگاؤں: سماجوادی پارٹی کے یوا لیڈر، گٹ نیتا اور وارڈ نمبر 7 کے نومنتخب کارپوریٹر مستقیم ڈگنیٹی نے اپنے ساتھیوں سہیل عبدالکریم، عالم سیٹھ اور عبدالرحمٰن انصاری کے ہمراہ آج سنیچر 21 فروری دوپہر 3:30 بجے وارڈ کے مختلف علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری و مجوزہ ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔

رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر کارپوریٹر مستقیم ڈگنیٹی نے مساجد اور مدارس کے اطراف روشنی کے بہتر انتظام کیلئے پرانی اور مدھم روشنی دینے والی LED لائٹس کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کارپوریشن کے توسط سے پہلے مرحلے میں مساجد و مدارس کے اطراف نئی LED لائٹس نصب کرنے کی ہدایت جاری کی۔ مستقیم دگنیٹی نے بتایا کہ کل سے لائٹس کی تنصیب کا کام شروع ہوجائے گا، جس سے علاقے میں روشنی کا خاطر خواہ انتظام ہوگا۔ اس کے بعد اگلے مرحلے میں ضرورت کے مطابق وارڈ کے الگ الگ حصہ میں بھی LED لائٹ لگایا جائے گا. 

دورے کے دوران گٹروں کی صفائی، پانی کی نکاسی اور کچرے کے انبار کا بھی معائنہ کیا گیا۔ متعلقہ صفائی افسران کو فوری طور پر کچرا اٹھانے اور گٹروں کی مکمل صفائی کیلئے فون پر ہدایات دی گئیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سلام چاچا روڈ پر نشاط اسکول سے قبل شعبان نگر ٹرانسفر میں بار بار ایک فیز کم ہونے کی وجہ سے پاور سپلائی بند ہونے کی شکایت پر کارپوریٹر مستقیم ڈگنیٹی نے پاور سپلائی انجینئر ساحل سر کو موقع پر طلب کرکے مسئلہ کا جائزہ لیا۔ انجینئر نے منگل تک خرابی دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

یاد رہے کہ کارپوریشن الیکشن کی تشہیری مہم کے دوران “اسٹینڈ اپ وِتھ ہزار کھولی” پروگرام میں مستقیم ڈگنیٹی نے ہزار کھولی کے مکینوں سے وعدہ کیا تھا کہ مالیگاؤں سیکولر فرنٹ کا اقتدار ملنے کے بعد چھ ماہ کے اندر الیکٹرک وائرنگ کو انڈرگراؤنڈ کیا جائے گا۔ اپنے اسی وعدے کی تکمیل کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے انہوں نے پاور سپلائی انجینئر کے ہمراہ ہزار کھولی کا دورہ کیا اور اعلان کیا کہ عید کے بعد پہلی گلی، کھولی نمبر 1 سے مدینہ کٹ پیس تک انڈرگراؤنڈ وائرنگ کے کام کیلئے ضروری کاغذات (پیپر ورک) کی شروعات کی جائے گی اور جلد سے جلد انڈرگراؤنڈ وائیرنگ کا کام کیا جائے گا. 

ہزار کھولی کے رہائشیوں نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وارڈ نمبر 7 میں ترقیاتی کاموں کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

मेयर रितु तावड़े के आदेश के बाद मुंबई के कई इलाकों में तोड़फोड़, दक्षिण मुंबई से लेकर जोगेश्वरी और कांदिवली तक चला व्यापक अभियान

मुंबई, 17 फरवरी:

बीएमसी (बृहन्मुंबई महानगरपालिका) पिछले कुछ दिनों से मुंबई भर में व्यापक तोड़फोड़ और अतिक्रमण हटाओ अभियान चला रही है। मंगलवार को नगर निगम अधिकारियों ने अब्दुल रहमान स्ट्रीट, जोगेश्वरी और कांदिवली सहित कई इलाकों में कार्रवाई करते हुए अवैध निर्माण, गैरकानूनी अतिक्रमण और फुटपाथों पर कब्जा करने वाले फेरीवालों को निशाना बनाया।

अपने पदभार ग्रहण करने के पहले ही दिन नवनिर्वाचित मेयर रितु तावड़े ने शहर के फुटपाथों पर कब्जा करने वाले अवैध फेरीवालों के खिलाफ सख्त अभियान चलाने की घोषणा की थी। इसी के तहत मुंबई के कई वार्डों में तोड़फोड़ और अतिक्रमण हटाने की कार्रवाई की जा रही है।

मोहम्मद अली रोड, जो भेंडी बाजार, मस्जिद बंदर और भायखला को जोड़ने वाली एक महत्वपूर्ण सड़क है — साथ ही नागदेवी और मंडवी के पास इब्राहिम मर्चेंट रोड — शहर के सबसे व्यस्त और व्यावसायिक दृष्टि से महत्वपूर्ण मार्गों में शामिल हैं।

शिकायतों के आधार पर बीएमसी के बी और सी वार्ड ने पिछले कुछ दिनों से मोहम्मद अली रोड और अब्दुल रहमान स्ट्रीट पर संयुक्त कार्रवाई करते हुए अवैध विस्तार हटाए और अतिक्रमण साफ किया, ताकि यातायात सुचारु हो सके और पैदल चलने वालों के लिए रास्ता बहाल किया जा सके।

दक्षिण मुंबई में कार्रवाई

बी वार्ड के एक अधिकारी ने बताया, “मंगलवार को एल.टी. रोड से अब्दुल रहमान स्ट्रीट और यूसुफ मेहरअली रोड से मोहम्मद अली रोड तक के इलाके में टीम ने 15 से अधिक अवैध विस्तार और 10 गैरकानूनी स्टॉल तोड़ दिए। यह कार्रवाई पायधोनी पुलिस स्टेशन, करीब 40 नगर निगम मजदूरों और दो जेसीबी मशीनों की मदद से की गई।”

उपनगरों में भी अतिक्रमण हटाया गया

इसी तरह जोगेश्वरी में स्टेशन रोड, जोगेश्वरी केव्स रोड, जोगेश्वरी पूर्व की सुभाष रोड और पूनम नगर स्थित स्वामी विवेकानंद रोड पर भी कार्रवाई की गई।

अधिकारियों के अनुसार, के-नॉर्थ वार्ड ने मंगलवार को लगभग 65 से 70 अवैध फेरीवालों और सड़क किनारे बनी झोपड़ियों को हटाया, जिससे भीड़भाड़ कम हुई और पैदल मार्ग बहाल हुआ।

इसके अलावा कांदिवली पश्चिम में कपोल विद्यानिधि इंटरनेशनल स्कूल के पास बोरासपाड़ा रोड पर भी अतिक्रमण हटाने के तहत अलग से तोड़फोड़ अभियान चलाया गया।

शहरभर में स्वच्छता अभियान

अतिरिक्त नगर आयुक्त (सिटी) डॉ. अश्विनी जोशी ने कहा, “बीएमसी ने फुटपाथ अतिक्रमण हटाने की कार्रवाई तेज कर दी है और लगातार निगरानी की जा रही है। शहरव्यापी स्वच्छता अभियान के तहत धूल-मुक्त सड़कें, छोड़े गए वाहनों को हटाना, दिन में तीन बार शौचालयों की सफाई, अवैध होर्डिंग्स पर कार्रवाई, पार्कों और स्टाफ कॉलोनियों का रखरखाव तथा फेरीवाला-मुक्त जोन बनाने पर जोर दिया जा रहा है। इसके लिए अतिरिक्त मानवबल और मशीनरी का उपयोग किया जा रहा है, ताकि शहर को स्वच्छ और व्यवस्थित बनाया जा सके।”

کیا NCP کے فیصلے سے شرد پوار ناراض ہیں؟ کیا این سی پی اندرونی خلفشار کا شکار؟؟

مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (NCP) کی اہم میٹنگ سے قبل ہی سنیترہ پوار کے نائب وزیر اعلیٰ بننے کی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ پارٹی کے اندر فیصلہ تقریباً طے ہو چکا ہے اور محض باضابطہ اعلان باقی ہے۔

اس پیش رفت کے درمیان سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا اس فیصلے سے NCP کے سینئر رہنما اور پارٹی کے بانی شرد پوار ناخوش ہیں؟ ذرائع کے مطابق، سنیترہ پوار کے نام پر پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ ابھی ہونا باقی ہے، جسے اندرونی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، اجیت پوار کے انتقال کے بعد پارٹی اور حکومت دونوں سطحوں پر قیادت کے خلا کو پُر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں سنیترہ پوار کو نائب وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سونپنے پر غور کیا گیا اور مبینہ طور پر میٹنگ سے پہلے ہی اس پر اتفاق رائے قائم کر لیا گیا۔

دوسری جانب، شرد پوار کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر شرد پوار واقعی اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں تو آنے والے دنوں میں NCP کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔ فی الحال پارٹی کی آئندہ میٹنگ اور قیادت سے متعلق باضابطہ اعلان پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

Random Posts